عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 118

118 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم ایمان کسی بھی شخص کو کسی جبر کے سامنے جھکنے کی اجازت نہیں دیتا خواہ اسے آزدی ضمیر کی خاطر کتنی بھی اذیت اور تکلیف کیوں نہ برداشت کرنی پڑے۔البتہ ہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ ہر ایک کے ایمان اور اخلاص کا معیار الگ الگ ہوتا ہے اور پھر سب میں اذیت برداشت کرنے کی طاقت بھی یکساں نہیں ہوتی۔عجیب بات ہے کہ یہی آیت ان کی تائید میں کھڑی ہو جاتی ہے اور معمولی سی تاکید کی تبدیلی سے مضمون کچھ یوں بنے گا: کسی سے یہ تقاضا نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنی طاقت سے بڑھ کر تکلیف برداشت کرے“ یوں کمزوروں کی بریت کے ساتھ ساتھ یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ دباؤ ڈال کر ان سے جو کچھ کہلوالیا گیا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ مذہب میں جبر کی ہرگز اجازت نہیں۔چنانچہ ایک حرام فعل کا نتیجہ بے حقیقت اور بے اثر ہو جاتا ہے۔مندرجہ ذیل آیت میں کمزوروں کیلئے آسانی کے اسی پیغام کو مزید واضح کر دیا گیا ہے: مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِةٍ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَين بِالْإِيْمَانٍ وَلَكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمُ (النحل 107:16) ترجمہ: جو بھی اپنے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کرے سوائے اس کے کہ جو مجبور کر دیا گیا ہو حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ( وہ بری الذمہ ہے)۔لیکن وہ لوگ جو شرح صدر سے کفر پر راضی ہو گئے ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور ان کیلئے ایک بڑا عذاب ( مقدر ) ہے۔اب ہم ان مومنوں کے معاملے پر غور کرتے ہیں جو باوجو د شدید مخالفت اور اذیت کے حق کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں۔وہ نہ صرف اپنے اموال اور دنیوی املاک حق کی خاطر قربان کر دیتے ہیں بلکہ اپنی جانیں تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔یہی وہ لوگ ہیں جو عدل سے ترقی کر کے درجہ احسان میں داخل ہوتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمانوں کو حسین بنالیا ہے۔لیکن ایک درجہ احسان سے بھی اعلیٰ ہے اور وہ ہے ایتا عذی القربی۔کیا یہ ممکن ہے کہ جو لوگ اپنے دین کے دفاع میں جنگ کرتے ہیں وہ احسان کرنے والوں سے بھی بڑھ جائیں؟ جہاں تک ان کی قربانیوں کا تعلق ہے، کیا وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق میں ایتا عوذی القربی کے دائرے میں داخل ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً وہ ہو سکتے ہیں۔وہ اپنا سب کچھ اس وقت تک