عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 111

مذہب میں آزادئ ضمیر 111 قَالُوْا حَرِقُوْهُ وَانْصُرُوا الِهَتَكُم إِنْ كُنْتُمْ فَعِلِينَ ( الا نبي 69:21) ترجمہ: انہوں نے کہا کہ اس کو جلا ڈالو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔فرعون نے بھی اس کا مذہب ترک کرنے والوں کیلئے مختلف قسم کی نئی نئی اذیت ناک سزائیں ایجاد کیں۔اُس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دین اختیار کرنے والوں کو مندرجہ ذیل سزائیں دینے کی دھمکی دی : فَلَا قَطِعَنَ أَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُوصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَ أَبْقَى (72:2046) ترجمہ: پس لازماً میں تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور ضرور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا اور تم یقیناً جان لو گے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔قرآن کریم کا بے مثال قانونِ عدل ہر قسم کے حالات پر یکساں اطلاق پاتا ہے۔مذہبی معاملات میں جبر کے تصور کو کلیۂ رد کرنے کے بعد یہ قانون تمام انبیا کو اس الزام سے بری قرار دیتا ہے کہ انہوں نے لوگوں کو جبراً اپنے مذہب میں شامل کیا اور یوں انبیا کو یہ حق دیتا ہے کہ اس معاملے میں ان کے ساتھ بھی انصاف کا سلوک کیا جائے۔سب سے مضبوط دلیل جو قرآن کریم اللہ تعالیٰ یعنی خالق کا ئنات کے حوالے سے پیش فرماتا ہے یہ ہے کہ اگر وہ چاہے تو حق قبول کرنے پر لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے کیونکہ وہ صحیح اور غلط کے مابین انتخاب کے متعلق کوئی جھگڑا پیدا کئے بغیر بآسانی ایسا کر سکتا ہے۔صحیح اور غلط کی موجودگی اور دونوں میں سے ایک کو چن لینے کا انسانی اختیار، در اصل اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تشکیل دیئے ہوئے نظام کائنات میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں ہے جیسا کہ فرمایا: وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَا مَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (یونس 100:10) ترجمہ: اور اگر تیرا رب چاہتا تو جو بھی زمین میں بستے ہیں اکٹھے سب کے سب ایمان لے آتے تو کیا تو لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے حتی کہ وہ ایمان لانے والے ہو جائیں۔