عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 83
اسلام مذہبی تعلیمات کا منتهی 9- اسلام: مذہبی تعلیمات کا منتہی اسلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ترقی یافتہ دور : 83 اب ہم اُس عظیم الشان دور کا ذکر کرتے ہیں جو نزول قرآن کا دور ہے اور جس میں قرآن کریم کے نزدیک مذہب کا ارتقا اپنے نقطہ عروج تک پہنچ گیا اور تعلیمات ہر پہلو سے مکمل ہو گئیں جیسا کہ فرمایا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائد 4:50) ترجمہ: آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر میں نے اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور میں نے اسلام کو تمہارے لئے دین کے طور پر پسند کر لیا ہے۔قرآن کریم نے عدل کے مضمون کو ہر شعبہ زندگی کے تعلق میں بیان فرمایا ہے۔یہ ایک بہت ہی دلچسپ اور وسیع مطالعہ ہے جس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا تو سر دست پیش نظر نہیں لیکن اس حد تک تفصیل ضروری ہے کہ قاری مضمون کو پوری طرح سمجھ لے اور وہ قرآن کریم کی جامعیت اور کمال کے اس دعویٰ کو پوری طمانیت کے ساتھ قبول کر سکے۔قرآن کریم اور بانی اسلام حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا عدل کے سیاق و سباق میں ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبُ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًان (الكيف 2:18) ترجمہ: سب تعریف اللہ ہی کیلئے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں کوئی کبھی نہیں رکھی۔قرآن کریم کی کوئی تعلیم بھی بے مقصد نہیں ہے یعنی ساری کتاب کا ”الف“ سے لے کر یا تک مطالعہ کر جاؤ عدل کے اس درمیانی رستے سے کوئی ذرہ بھر بھی بھی تم اس کتاب میں نہیں پاؤ گے۔یہ ایسی کتاب ہے جو کسی ایک قوم یا نظریے کی طرف جھکاؤ نہیں رکھتی بلکہ متوازن اور نوع انسانی کیلئے ایک عالمگیر کتاب ہے۔لَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًا میں ” ، “ کی ضمیر چونکہ ”عبد“ یعنی خدا کے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی پھیری جاسکتی ہے اس لئے اس کا دوسرا معنی یہ بنے گا کہ سب حمد اللہ ہی کیلئے ہے جس نے اپنے ایسے بندے پر ایک کتاب اتاری جس میں کسی قسم کی کوئی کبھی نہیں ہے۔66 699 "