عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 80
80 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کے ایک نشان کے طور پر ظاہر ہو اور آئندہ آنے والی نسلیں اس سے عظیم سبق سیکھیں۔اس میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ جب عدل و انصاف کا وقت آجاتا ہے تو کوئی بھی انسانی رشتہ اس عمل میں دخل نہیں دے سکتا۔جب اللہ تعالیٰ ایک قسم کے ظالموں کو سزا دینے کا فیصلہ صادر فرما دیتا ہے تو پھر اس مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے اور کسی کو کسی دوسرے پر کوئی ترجیح نہیں دی جاتی یہاں تک کہ انبیا علیہم السلام کے قریبی رشتہ داروں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔حضرت لوط علیہ السلام کو جس قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا وہ ہم جنس پرستی، کھلی کھلی بے حیائی اور شاہراہوں پر ڈاکہ زنی جیسے جرائم میں ملوث تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے حق میں دعا کرنے کی اجازت دی لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی تنبیہات پر کان نہ دھرا اور اپنے گھناؤنے جرائم پر مصر رہے تو پھر خدا تعالیٰ نے ان کی تباہی کا فیصلہ کر لیا۔حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کو آنے والے عذاب کی خبر دی گئی جس کے بعد سدوم اور گمورہ نامی بستیوں کے باسیوں کا وجود ایک خوفناک زلزلہ کے باعث صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا۔یہاں اگر چہ انبیاء نے رحم مانگا لیکن تقدیر الہی بد کرداروں کو بخشنے کی بجائے اصول عدل کے عین مطابق سزاد ینے کا فیصلہ کر چکی تھی۔اس کے برعکس حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے باوجود عذاب کی پیش گوئی کے بچا لیا۔ہوا یوں کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ کا بکلی انکار کر دیا لیکن تباہی کا فیصلہ ہونے پہلے پہلے آخری لمحات میں ان کے تو بہ کرنے پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب کی تقدیر آخری لمحہ میں بھی ٹل سکتی ہے۔لوگ اگر اپنی حالت میں تبدیلی کر لیں تو تقدیر الہی بھی اس کے مطابق بدل جایا کرتی ہے۔لیکن ایسا معاشرہ بہر حال تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے جہاں جرائم کا غلبہ ہو چکا ہو۔تاہم اگر لوگ حقیقی تو بہ کر کے جرائم سے باز آجائیں تو رحمت باری تعالیٰ سے حصہ پا کر یقیناً بخشے جاتے ہیں۔لیکن اگر وہ اپنے گناہوں پر مصرر ہیں تو پھر خدا کے چنیدہ انبیاء کی نمازیں اور دعا ئیں بھی انہیں تباہی سے نہیں بچا سکتیں۔پس احکام عدل اس امر کے متقاضی نہیں کہ ہر ظالم کولا ز ما سزادی جائے۔بلکہ رحمت اور بخشش کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے لیکن جب سفا کی حد سے بڑھ جائے تو احسان کرنا بے فائدہ ہو جاتا ہے۔اس صورت میں انبیاء کی متضرعانہ التجائیں بھی ایسی بدکردار اقوام کو بدانجام سے نہیں بچاسکتیں۔تعلیمات عدل کا ارتقا مختلف ادوار میں مبعوث ہونے والے انبیاء کرام کے حالات کے مطالعے سے اس امر پر روشنی