عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 59 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 59

انسانی جسم کا اندرونی توازن 59 اسی طرح اعصابی نظام کی صحت کا انحصار کافی حد تک سوڈیم اور پوٹاشیم دونوں پر ہے لیکن اعصاب میں ان کی ضرورت حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔کوئی بھی پیغام ایک زنجیر کی صورت میں ایک سے دوسرے خلئے تک آگے سے آگے پہنچایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ جسم کے اس حصے تک پہنچتا ہے جہاں اس کا پہنچایا جانا مقصود ہوتا ہے۔پیغامات کی ایک سے دوسرے خلئے تک ترسیل کے دوران سوڈیم خلیات کے اندر جاتی جبکہ پوٹاشیم خلیات کے اندر سے باہر آتی ہے۔اب اگر اس کے فوراًبعد اس عمل کا رخ نہ پلٹا جائے اور پوٹاشیم کی سطح کو دوبارہ جلد معمول پر نہ لایا جائے تو اچانک موت واقع ہو جائے گی۔اس سے ہم سورۃ الانفطار کی آٹھویں آیت میں استعمال کی گئی قرآنی بیان ” فَسَونَكَ فَعَدَ لَكَ“ کا مطلب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔گویا یہ چھوٹا سا فقرہ ہمارے بدن میں موجود ہر قسم کے توازن کے سارے پیچیدہ نظام کا خلاصہ ہے۔خلیات کی تقسیم کا عمل : انسانی جسم میں خلیات کی تقسیم کا عمل بھی بہت دلچسپ ہے۔ہر سات سال کے اندر انسانی جسم کے تمام خلیات کیٹا بولزم (CATABOLISM) جیسے انتہائی پیچیدہ نظام کے تحت تبدیل ہو جاتے ہیں۔عمل تعمیر کے تحت خلیات کی تعمیر اور تخریب کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے لیکن ہمیں محسوس نہیں ہو رہا ہوتا کیونکہ اس سے جسمانی خدو خال میں کوئی بنیادی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔یہ تو ممکن ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کسی کی صحت اچھی ہو جائے اور وزن بھی بڑھ جائے یا پھر صحت بگڑ جائے اور گوشت پوست کم ہو جائے لیکن جسمانی ساخت بعینہ قائم رہتی ہے۔کیونکہ عمل تعمیر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ہر نیا خلیہ جو مرنے والے خلئے کی جگہ لے رہا ہوتا ہے، اپنے پیش رو کی ہو بہو تصویر ہوتا ہے۔اس کی مزید وضاحت کیلئے سب سے زیادہ معروف مثال انگلیوں کے نقوش کی ہے۔چنانچہ ایک نومولود کے انگوٹھے کا نقش اس کے بوڑھا ہونے تک اپنی تمام تر تفاصیل کے اعتبار سے بعینہ قائم رہتا ہے۔اس مضمون کا تعلق انسانی جسم میں جاری نظام عدل کے ساتھ ہے۔جسمانی اعضاء کومسلسل نئے خلیات کی ضرورت رہتی ہے۔اگر یہ نئے خلیات پیدا نہ ہوں تو اعضاء ختم ہو جائیں لیکن اگر نئے خلیات کی فراہمی ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو اعضاء کا حجم بڑھتا چلا جائے گا۔اگر یہ فراہمی ضرورت سے کم ہو تو اعضاء سکڑنے لگ جائیں گے۔اگر اپنی عمر پوری کر چکنے والے خلیات کی جگہ