عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 58
58 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول وہ سب کچھ فراہم کر سکے جو جسم کو درکار ہے۔خون اور نرم بافتوں کو کیلشیم کی تھوڑی سی مقدار درکار ہوتی ہے جبکہ بقیہ مقدار دانتوں اور ہڈیوں میں ذخیرہ ہو جاتی ہے۔جب خون میں کیلشیم کی کمی واقع ہوتو اسے اس ذخیرے سے پورا کیا جاتا ہے۔غذا میں کیلشیم کی مقدار کے لحاظ سے جسم اس کے انجذاب کی شرح میں کمی بیشی کرتارہتا ہے۔اگر غذا میں کیلشیم کم ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم مقررہ مقدار سے زیادہ کیلشیم جذب کر رہا ہے اور اگر کیلشیم زیادہ مقدار میں کھائی جارہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زائد کیلشیم ہڈیوں میں ذخیرہ ہوتی رہے گی یہاں تک کہ یہ اپنی بلند ترین ممکنہ سطح تک پہنچ جائے تب آنتوں کے ذریعہ کیلشیم کے جذب ہونے کی شرح کم ہو جاتی ہے۔وٹامن ڈی کی موجودگی جسم میں کیلشیم کے انجذاب کو بڑھا دیتی ہے۔لہذا منطقہ حارہ کے ممالک میں، جہاں خواہ غذا میں کیلشیم کی مقدار کم بھی ہو جسم پر زیادہ دھوپ پڑنے سے پیدا ہونے والے وٹامن ڈی کی وجہ سے کیلشیم کے جذب ہونے کی شرح بہت بڑھ جاتی ہے۔پیراتھائرائڈ (PARATHAYROID) غدود میں پیدا ہونے والا پیرا تھورمون (PARATHORMONE) نامی ہارمون کیلشیم کے توازن میں با قاعدگی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔یہ وٹامن ڈی کے ساتھ مل کر جسمانی ضرورت کے مطابق کیلشیم کے انجذاب میں کمی بیشی کا کام کرتا ہے۔اس طرح کیلستون (CALCITONE) نامی ایک اور ہارمون بھی کیلشیم کے توازن کو با قاعدہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔جب خون میں کیلشیم کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے تو کیلسٹون زائد کیلشیم کو ہڈیوں میں واپس بھیج دیتا ہے علاوہ ازیں آنتوں کے ذریعہ جذب ہونے والی کیلشیم کوبھی گھٹا دیتا ہے۔سوڈیم اور پوٹاشیم : اب ہم ایک اور پہلو سے فجور اور تقویٰ کے نظام کی وضاحت کرتے ہیں۔سوڈیم اور پوٹاشیم دو ایسے عناصر ہیں جو زندگی کی بقا کیلئے نہایت ضروری ہیں۔ان دونوں کے مابین ایک توازن کا ہونا از حد ضروری ہے۔تاہم پورے انسانی جسم میں دونوں کا تناسب یکساں نہیں ہوتا بلکہ مختلف حصوں میں مختلف ہوتا ہے۔مثلاً ہڈیوں اور گوشت میں پوٹاشیم کی مقدار سوڈیم سے زیادہ ہونی چاہئے جبکہ خون میں سوڈیم کی مقدار پوٹاشیم سے زیادہ۔ان نمکیات میں عدم توازن خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔لہذا جسم کے مختلف حصوں میں ان دونوں کے مابین توازن کو برقرار رکھنا کوئی اتفاقی امر نہیں بلکہ ایک نہایت منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔