عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 57
انسانی جسم کا اندرونی توازن کو شاید مکمل طور پر نہ سمجھ سکیں۔57 انسانی جسم کی ساخت میں کیلشیم کا کردار انتہائی پیچیدہ ہے۔کیلشیم فاسفیٹ انسانی ڈھانچے کو مضبوطی اور سختی عطا کرتی ہے جبکہ کیلشیم کے نمکیات ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خلئے کے اردگرد موجود جھلی نما بافتوں کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔چنانچہ خلیات اور دانتوں کی خستگی نیز طبیعت کا حد سے بڑھا ہوا چڑ چڑا پن، کیلشیم کی کمی کی علامات ہیں جبکہ کیلشیم کی زیادتی کا نتیجہ ذہنی الجھنوں اور جسمانی کاہلی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔خلئے کے اندر زندہ پروٹوپلازم ہوتا ہے جس کے گرد ایک مضبوط جھلی پائی جاتی ہے۔کیلشیم کی کمی کے باعث یہ جھلی اپنی مضبوطی کھو کر خلئے کی کمزوری کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں خلئے سے باہر پروٹو پلازم کے ابھار بن سکتے ہیں۔انسانوں میں کیلشیم کی کمی بیشی ان کی غذا اور ماحول کے مطابق ہوتی ہے چنانچہ اس کی کمی یا زیادتی سے ان کی زندگی کئی قسم کی بیماریوں کا شکار ہوسکتی ہے نیز ہڈیوں کے ریشوں اور خون میں کیلشیم کا عدم توازن مندرجہ ذیل بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا کرتا ہے۔---ویسوڈیلیشن (VASODILATION): جس کے نتیجہ میں بلڈ پریشر گر جاتا ہے، یا۔۔۔دل کے عضلات میں سکڑنے کی طاقت کا کم ہو جانا، --- ہڈیوں کی بافت میں ایسی تبدیلی جس کے نتیجے میں وہ بھر بھری ہو کر سوکھ جاتی ہیں، --- تشویشناک آسٹیور تھریٹس (OSTEOARTHRITIS): جس میں کیلشیم کا تناسب بگڑ جاتا ہے اور انجائنا کے حملے بھی ہوتے ہیں۔کیلشم کی یہ کمی بلڈ پریشر میں کمی کے باعث ہوتی ہے جو دماغ کے خلیوں اور دیگر بافتوں میں شدید اور مستقل خرابی کا سبب بن سکتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو ایک اور حفاظتی نظام فراہم کر رکھا ہے جو کیلشیم کا توازن بگڑنے نہیں دیتا کیلشیم کے لطیف توازن کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار عوامل لا تعداد ہیں اور انتہائی پیچیدہ طور پر باہم مربوط بھی ہیں۔اس نگران اور اصلاحی نظام کا سورۃ الشمس کی آیت نمبر 9 کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے۔اس تناظر میں تقویٰ سے مراد یہ ہوگی کہ ہم نے زندگی کے تعمیری مادے میں خطرات کی نشان دہی کر دی ہے اور ان سے بچاؤ کے متعلق تمام تفصیلی ہدایات لکھ چھوڑی ہیں۔چنانچہ کیلشیم کے تناسب پر نظر رکھتے ہوئے بر وقت ضروری اقدام کرنے والے کئی نظام جسم میں طبعی طور پر موجود ہیں۔بوقت ضرورت پیچیدہ غدودی نظام فوراً حرکت میں آتا ہے جس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ