عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 54
54 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کی ضرورت ہوتی ہے۔عام طور پر ہر جاندار اس سے دو گناغذا ہضم کر سکتا ہے جتنی ایک صحت مند زندگی کیلئے مطلوب ہے لیکن جب وہ اس حد سے بھی تجاوز کرتا ہے تو سزا کا دائرہ شروع ہو جاتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ وہ قوانین عدل توڑنے کا عادی بھی ہو اور اسے اس کے نتائج بھی نہ بھگتنا پڑیں۔توازن قائم رکھنے والے اس نہایت لطیف نظام کے بارہ میں ہمارا علم ابھی تک نا کافی ہے۔لیکن افسوس! انسان کتنا بد قسمت ہے کہ حیاتیاتی ارتقا کا نقطہ عروج ہونے اور سوچنے سمجھنے کی بہترین صلاحیتوں سے نوازے جانے پر وہ بجائے خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بننے کے اکثر رعونت کا شکار ہو جاتا ہے۔عادلانہ سلوک روا ر کھنے والے خالق کے ساتھ اس کا رویہ کس قدر غیر عادلانہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ باہم مربوط لا تعداد عوامل کی ایک وسیع اندرونی کائنات ہے جو ایک حسین اور کامل توازن کے ساتھ تمام ضروریات زندگی کا ہر پہلو سے احاطہ کئے ہوئے ہے۔انسان کے اندر پایا جانے والا یہ حسین توازن اور کامل ہم آہنگی ایک اعلیٰ درجہ کی موسیقی کی مانند ہے۔انسان تخلیق خداوندی کا سب سے بڑا شاہکار ہے لیکن ان عجائبات سے کتنا بے خبر ہے جو اس کے اندر موجود ہیں۔انسولین کی پیداوار میں احسان کا کردار: اس نکتہ کی مزید وضاحت کیلئے ہم ہر جانور کو در کارشکر کی روزمرہ ضروریات والی مثال پر دوبارہ غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ کا احسان بسیار خوری کے بداثرات سے مریض کو بچاتا ہے۔مثلاً اگر لبلبہ سے پیدا ہونے والی انسولین صرف روزانہ کی شکر کی ضرورت کے عین مطابق ہوتی تو ظاہر ہے کہ یہ محض روزانہ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کافی ہوتی۔اس صورت میں احسان کا کوئی بھی کردار نہ ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو روزمرہ ضروریات سے زیادہ مقدار میں انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔چنانچہ اگر ایک صحت مند انسان ضرورت سے کئی گنا زائد شکر استعمال کر بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان کا سلوک اسے اس کے بدنتائج سے محفوظ رکھے گا۔دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ اگر لبلبہ کسی خرابی کے باعث مطلو به انسولین کا 1/7 حصہ بھی پیدا کر رہا ہو، تو یہ تھوڑی سی مقدار بھی روزمرہ کی ضروریات کو بآسانی پورا کرنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ان سائنسی مظاہر کی باریکیوں کو نہ سمجھنے والے ایک عام آدمی کیلئے اس امر کی مزید وضاحت مفید ہوگی۔انسولین کا پیدا ہونا کسی بھی طرح کوئی اتفاقی امر نہیں ہے۔جانوروں کو اپنی ضروریات کا کچھ بھی علم نہیں ، بس کھانے کی ایک شدید طلب ہے جو انہیں ہر ایسی چیز کھانے پر مجبور کرتی ہے جس سے ان کی بھوک مٹ سکے اور وہ خوش ذائقہ بھی ہو۔لیکن اس کے باوجود ایک خاص مقام پر پہنچ کر انہیں