عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 31
زمین کا ماحولیاتی نظام 31 زیادہ تر ایمونیم کے نمکیات پر مشتمل ہوتی ہیں۔جب بارش برسانے والے برقی چارج شدہ بادلوں کو تیز ہوائیں پہاڑوں کی طرف لے جاتی ہیں تو ان میں اچانک برقی طوفان پیدا ہوتے ہیں اور بجلیاں کڑکتی ہیں جس سے پانی کے قطرات اور نائٹروجن گیس، ایمونیم کے نمکیات میں تبدیل ہوکر بارش یا برف میں شامل ہو جاتے ہیں۔بعض اندازوں کے مطابق اس عمل سے گھنٹے بھر میں اتنی مقدار میں کھاد پیدا ہو جاتی ہے جتنی انسانی ہاتھ سے لگائی گئی ایک صنعت سال بھر میں پیدا کرتی ہے۔ان تمام مظاہر کا تفصیلی مطالعہ در حقیقت اُن علوم کی تشریح کرے گا جو پہاڑوں کے انسانی زندگی کیلئے عظیم فوائد کے متعلق قرآن کریم میں موجود ہیں۔اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سورۃ حم السجدہ میں فرماتا ہے کہ: وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَرَكَ فِيْهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءَ لِلسَّابِلِينَ ( حم السجدة 11:41) ترجمہ: اور اس نے اس کے مرتفع خطوں میں پہاڑ بنائے اور ان میں اس نے برکت رکھ دی اور ان میں انہی سے پیدا ہونے والے خورونوش کے سامان۔چار زمانوں میں مقدر کئے اس حال میں کہ (سب حاجتیں) طلب کرنے والوں کے لئے وہ برابر ہیں۔مختصر یہ کہ جب ہم آسمانوں اور زمین میں قوانین قدرت کے ظہور کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہمیں ان میں کامل بیجہتی ، ہم آہنگی اور توازن دکھائی دیتا ہے۔رات اور دن کے آگے پیچھے آنے اور موسموں کے آدلنے بدلنے یعنی سرما سے گرما، خزاں سے بہار وغیرہ اور زمینی حیات پر ان کے مخصوص اثرات ایسے عوامل ہیں جو اس نظام پر گہرے طور پر اثر انداز ہوتے ہیں جس کے سہارے زندگی قائم ہے۔فضائی گیسوں کا باہمی توازن : ہماری پسند نا پسند سے ماورا، ہر موسم کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ان میں سے ہر ایک الگ الگ یا بحیثیت مجموعی سب موسم زمین کے ماحولیاتی نظام کو قائم رکھنے کیلئے ضروری ہیں خواہ یہ مختلف انواع حیات کے تعلق میں ہو یا عناصر کے باہمی توازن کے اعتبار سے ہو۔ہوا میں نائٹروجن آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور بعض کمیاب گیسوں کی خاص تناسب میں موجودگی کیوں ضروری ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جنہیں حل کرنے کیلئے سائنسدانوں کی توجہ بڑھتی