عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 32
32 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول جارہی ہے۔یہ امر تو یقینی ہے کہ ان گیسوں کا خاص تناسب میں پایا جانا حادثاتی نہیں ہے اور یہ کہ اس میں ذراسی کمی بیشی سے تمام ماحولیاتی نظام کا توازن بگڑ جائے گا یہاں تک کہ اگر کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار فضا میں صرف ایک فیصد بڑھ جائے تو اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔اخبارات میں گرین ہاؤس ایفیکٹ (Greenhouse effect) کا جو تذکرہ ہوتا ہے اُسے ایک عام قاری کچھ زیادہ سمجھ نہیں سکتا لیکن جب کوئی سائنس دان اس اثر کی اصل اہمیت سے انہیں آگاہ کرتا ہے تب انہیں اس کا صحیح معنوں میں احساس ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اگر کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار چار سے پانچ فیصد تک بڑھ جائے تو زمین پر زندگی قائم نہیں رہ سکتی۔صرف کاربن ڈائی آکسائڈ کا تناسب ہی نہیں بلکہ کرہ ہوائی میں موجود ہر گیس کا ایک خاص مقصد ہے اور یہ عین اسی تناسب میں درکار ہے جس میں یہ موجود ہے۔زمین کے کرہ ہوائی کی بالائی تہوں پر بھی یہی اصول اطلاق پاتا ہے۔بالا ئی کرہ ہوائی میں اوزون گیس کی تہ کی موٹائی اٹھارہ سے تھیں میل تک بیان کی جاتی ہے۔اگر کسی حادثہ کے نتیجہ میں اوزون کا توازن بگڑ جائے تو کم طول موج رکھنے والی فلکیاتی شعاعوں کی یلغار کا خطرہ ہے جو زندگی کیلئے انتہائی مہلک ہوتی ہے۔اوزون گیس بالخصوص کم طول موج والی بالائے بنفشی شعاعوں کو ختم کر کے رکھ دیتی ہے۔عالم نباتات اور عالم حیوانات کا باہمی توازن : مختلف انواع حیات کے مابین پائے جانے والے تو ازن اور اسی طرح عالم حیوانات اور عالم نباتات کے مابین پائے جانے والے توازن کی طرف سائنسدانوں کی توجہ بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس توازن کی بعض شکلیں مندرجہ ذیل ہیں: ----- جانداروں کا اپنے مخصوص ماحول کے لحاظ سے توازن --- شکاری اور ان کا شکار بننے والے جانوروں کا باہمی توازن ----- مچھلیوں کی پہاڑوں میں اپنی جائے پیدائش سے سمندروں کی طرف نقل مکانی اور پھر سمندروں سے اپنی جائے پیدائش کی جانب واپسی میں پایا جانے والا توازن۔----- دریاؤں اور جھیلوں کے باہمی توازن کا قائم رکھنا اور ان میں پائی جانے والی مخلوقات کا تبادلہ یعنی دریاؤں سے جھیلوں میں آنا اور پھر جھیلوں سے واپس دریاؤں میں لوٹ جانے کا متوازن نظام۔