عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 27

زمین کا ماحولیاتی نظام 27 کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اُمی محض تھے اور ایسے ملک میں پیدا ہوئے تھے جس کا ان پڑھ لوگوں کی سرزمین کہ کر ٹھٹھہ اُڑایا جاتا تھا۔ملک عرب کے ایک طرف ایران کی انتہائی ترقی یافتہ تہذیب تھی تو دوسری جانب وسیع و عریض اور عظیم الشان رومی سلطنت علم کے ایک ایسے گہوارے کی صورت میں قائم تھی جہاں فلسفہ اور سائنس اعلی پیمانے پر پروان چڑھ چکے تھے۔یہ دونوں ہم عصر عظیم الشان طاقتیں ملک عرب کو تضحیک اور تخفیف کی نظر سے دیکھا کرتی تھیں گویا جہالت اسی سرزمین سے پھوٹتی ہے۔پس علم کے اس عظیم سر چشمے یعنی قرآن کریم کو ایسی سرزمین میں رہنے والے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ صرف اور صرف خدا کا ہی کلام ہو سکتا ہے۔زمین: زمین کی تخلیق کے متعلق قرآن کریم کے بیان کردہ توازن کے اصولوں میں سے چند ایک مثالیں وضاحت کیلئے ذیل میں درج کی جاتی ہیں: وَالْأَرْضَ مَدَدْنَهَا وَالْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنْبَتْنَا فِيهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ موزون (20:15 31) ترجمہ: اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے مضبوطی سے گڑے ہوئے ( پہاڑ ) ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی متناسب چیزا گائی۔یہ آیت اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو کامل توازن کے ایک جیسے ہی اصولوں پر پیدا فرمایا ہے۔چنانچہ زمین اور آسمان کے مابین جو کچھ بھی تخلیق کیا گیا ہے وہ قوانین عدل کا پابند ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے نہایت مناسب طور پر آسمان کو ”میزان اور زمین کو موزون قرار دیا ہے۔اس میں یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ زمین بذات خود متوازن نہیں ہوگئی بلکہ توازن پیدا کرنے والی ایک برتر اور بالا بیرونی طاقت نے اسے متوازن کر رکھا ہے۔لفظ میزان کا تعلق عدل کے آسمانی اصولوں کے ساتھ ہے اور اس میں واضح طور پر دیگر اشیاء میں توازن پیدا کرنے کا ذریعہ ہونے کا مفہوم بھی داخل ہے۔پس زمین پر نظر آنے والا اصول عدل اپنی کسی اندرونی خوبی سے پیدا نہیں ہوا بلکہ آسمان کا عطا کردہ ہے۔یہاں ہمیں اس حقیقت کا بھی عرفان ہوتا ہے کہ زمین پر موجود ہر ایک مادی چیز کی فضیلت کا انحصار آسمانی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگی پر ہے۔اسی طرح اس سے یہ معقول نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ہر نیکی اور بھلائی کی طرف دنیا کی رہنمائی کرنے کے سب سے زیادہ اہل خالص آسمانی وجود ہی ہیں۔چنانچہ فرمایا: