عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 20

20 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول کے وجود کو تسلیم کرنا پڑا جو باشعور اور مدبر بالا رادہ بھی ہے اور اپنی منشاء کے مطابق کام کرنے کی صلاحیت اور طاقت بھی رکھتا ہے۔(2) مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کے عجائبات کی بھر پور وضاحت کر رہی ہیں: تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ الَّذِى خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفْوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورِ (الملک 2:67 4) ترجمہ: بس ایک وہی برکت والا ثابت ہوا جس کے قبضہ قدرت میں تمام بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔وہی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے اور وہ کامل غلبہ والا اور بہت بخشنے والا ہے۔وہی جس نے سات آسمانوں کو طبقہ در طبقہ پیدا کیا۔تو رحمان کی تخلیق میں کوئی تضاد نہیں دیکھتا پس نظر دوڑا کیا تو کوئی رخنہ دیکھ سکتا ہے؟ اللہ ہی ہے جس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا اور ان دونوں کے مابین ایک مسلسل جد و جہد کا عمل جاری کر دیا ہے۔یہ آیات قرآنیہ دراصل بقائے اصلح کے قانون کی وضاحت کر رہی ہیں۔اسی جدوجہد کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ فرماتا ہے کہ اس کی مخلوقات میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہترین ہے۔حق و باطل کی باہمی کشمکش کے بارے میں یہ آیات بتا رہی ہیں کہ فتح بہر حال حق کی ہونی چاہئے اور باطل کو نیست و نابود ہو جانا چاہئے۔تعمل ارتقا کا تقابلی جائزہ لینے پر یہ واضح ہوتا ہے کہ جہت یہ فیصلہ کرے گی کہ کسی چیز کا سفر موت کی طرف ہے یا زندگی کی طرف۔اگر کوئی چیز موت کی طرف بڑھ رہی ہے تو اس میں قوت حیات مسلسل انحطاط پذیر ہوتی چلی جائے گی اور اس کا برعکس بھی یہی ہے۔ان دونوں مخالف انتہاؤں کے درمیان زندگی اور موت کے لاتعداد مدارج ہیں۔کائنات میں ہر ذی روح انہی دو سمتوں میں محو سفر ہے یعنی یا تو وہ ترقی پذیر ہے یا انحطاط کا شکار۔جہاں بھی زندگی شعور کے نسبتاً اعلیٰ مقام کی طرف بڑھ رہی ہے وہ انسانی حالت ہی کی طرف محو سفر دکھائی دیتی ہے۔ادنی درجہ کی