عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 21
تخليق كائنات 21 انواع حیات کا اعلیٰ درجہ کی انواع سے موازنہ کیا جائے تو اول الذکر موت کے قریب تر دکھائی دیتی ہیں۔زندگی کی طرف اُٹھنے والا ہر ایک قدم در اصل کمال اور خوبصورتی کی طرف ہی اٹھ رہا ہے۔موت کی جانب سفر کی اگر چہ ایک آخری حد ہے لیکن زندگی کے سفر میں آخری منزل کوئی نہیں ہے کیونکہ یہ وہ سفر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جاتا ہے اور خدا کی ہستی لا محدود ہے۔مندرجہ بالا دو آیات میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات عزیز اور غفور بیان ہوئی ہیں۔عزیز کا معنی ہے کہ وہ اپنے غالب علم کی بدولت کامل غلبہ رکھنے والا اور عزت کا سب سے بڑھ کر مستحق ہے اور غفور سے مراد ہے کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا وجود ہے۔یہ صفات بتاتی ہیں کہ جس وجود کے پاس جتنا زیادہ علم ہوتا ہے وہ اتنازیادہ قابل عزت اور طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے۔دوسری صفت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر چہ ترقی کے سفر کے دوران بہت سی غلطیاں سرزد ہوں گی لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے اکثر قصور معاف کر دے گا اور ان کی وجہ سے انسان کو کوئی نقصان نہیں اُٹھانا پڑے گا۔خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے بہترین توازن کے ساتھ سات آسمان تخلیق فرمائے ہیں۔اس کی تخلیق میں معمولی سا بھی کوئی رخنہ یا تضاد نہیں ہے۔ہمیں کائنات پر نظر دوڑا کر اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی رخنہ تلاش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو یہ چیلنج حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس وقت دیا گیا جبکہ زمین اور آسمان کے بارہ میں لوگوں کا علم بالکل بچگانہ اور قدیم فلسفہ پر مبنی تھا اور اس دور کے تصور کائنات میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کی بناء پر کوئی شخص اس کی خوبصورتی اور موزونیت کے دفاع میں ایسا چیلنج پیش کرنے کا سوچ بھی سکتا۔اس وسیع کائنات میں کوئی رخنہ تلاش کرنے کا یہ چیلنج ایک بار پھر دہرایا گیا ہے اور قرآن کریم خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ انسان اس میں ہرگز کوئی رخنہ تلاش نہیں کر پائے گا اور اس کی نظریں تھک ہار کر اور ناکام ہو کر لوٹ آئیں گی۔