عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 19

تخليق كائنات 19 خدا تعالیٰ کے انہی تخلیقی کمالات کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے۔یہ قانون تمام نظام ہائے شمسی، کہکشاؤں اور کہکشاؤں کے مختلف جھرمٹوں پر یکساں اطلاق پاتا ہے۔حتی کہ کائنات کا چھوٹے سے چھوٹا ذرہ بھی اس قانون کے دائرہ سے باہر نہیں۔سالموں اور ایٹموں کی چھوٹی سی دنیا میں بھی ہمیں یہی دکھائی دیتا ہے کہ ذرات اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔کسی بھی سیارے کی اپنے مدار میں گردش کا کشش ثقل کی مخالف قوتوں کے ساتھ مکمل طور پر متوازن ہونا ضروری ہے جو اس سیارہ کو اندر کی طرف کھینچ رہی ہوتی ہیں۔اس کا انحصار سیارہ کی اس معین رفتار پر ہے جس کے ساتھ وہ مرکز کے گرد گھوم رہا ہوتا ہے۔اس رفتار کو کچھ کم کر دینے یاذ راسا بڑھا دینے سے یہ اجرام یا تو اپنے مدار سے نکل کر منتشر ہو جائیں گے یا پھر ایک دوسرے سے ٹکرا کر ایک دوسرے ہی میں ھنس جائیں گے۔کائنات میں ایسی کامل ہم آہنگی اور مطابقت رکھنے والی قوتوں کی صرف یہی چند ایک مثالیں نہیں ہیں بلکہ ارب ہا ارب نظام ہائے شمسی ہیں جن میں مدار ایک حیرت انگیز معین حساب کے مطابق بنائے گئے ہیں۔تاہم ایک عام آدمی کو سمجھانے کیلئے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا ئناتوں اور کہکشاؤں کا شمار ممکن نہیں۔اس حیرت انگیز توازن کو قرآنی اصطلاح میں ” میزان کہا گیا ہے۔بہت سے علماء نے اس مضمون پر مختلف جہات سے روشنی ڈالی ہے کیونکہ کائنات کے متعلق جستجو کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔سائنس دان ابھی تک کا ئنات کے ان اسرار کا بھی پوری طرح احاطہ نہیں کر سکے جو بالکل سطحی ہیں۔کئی دانشوروں نے اس موضوع پر روشنی ڈالی اور مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے بہت کچھ لکھا بھی ہے لیکن ہرا گلا قدم اس کا ئنات میں موجود اشیاء کے وسیع تر توازن کے نئے نئے پہلو اجاگر کرتا چلا جا رہا ہے اور اس میدان میں ہونے والی ہر نئی تحقیق قرآن کریم کے بیان فرمودہ ایک ہی لفظ کی بار بار تصدیق کرتی چلی جارہی ہے کہ اس ساری کائنات کو چلانے والا مرکزی اصول دراصل ” میزان ہی ہے جس کے معنی ہیں ” کامل توازن یا مطلق عدل“۔آئن سٹائن نے بھی ان قوانین کے مطالعہ کے دوران جن پر اجرام فلکی کی حرکت کا دارو مدار ہے اس موضوع پر بہت غور و خوض کیا۔چنانچہ وہ کائنات میں موجود کامل ترتیب اور مکمل توازن کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب گیا اور پکار اُٹھا کہ یہ حسین تو ازن ہمیں ایک ایسی بالا ہستی پر ایمان لانے پر مجبور کرتا ہے جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے۔وہ شاید کسی ایسے خدا کو تسلیم نہیں کرتا تھا جو انسان کے ساتھ ہمکلام ہو سکتا اور کوئی مذہبی تعلیم الہام کر سکتا ہے۔لیکن کم از کم اسے ایک ایسے عظیم خالق