عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 256
256 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم اس آیت کریمہ میں عدل اور احسان کے مضمون کو نسبتاً بہت وسعت سے پیش کیا جا رہا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے شرک نہ کرنے اور حقوق والدین ادا کرنے کے علاوہ قریبیوں کے ساتھ احسان کے سلوک اور یتامیٰ کے ساتھ احسان کے سلوک اور مسکینوں کے ساتھ احسان کے سلوک اور رشتہ دار ہمسایہ کے ساتھ احسان کے سلوک اور اجنبی ہمسایہ کے ساتھ احسان کے سلوک اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کے ساتھ احسان کے سلوک اور مسافر کے ساتھ احسان کے سلوک اور اپنے زیر نگیں لوگوں سے بھی احسان کے سلوک کی تعلیم دی جارہی ہے۔صلہ رحمی کی عظیم الشان پر حکمت تعلیم : آنحضرت ﷺ سے حضرت انس بن مالک یہ روایت بیان فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضور ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص رزق کی فراخی چاہتا ہے اسے صلہ رحمی کا خلق اختیار کرنا چاہئے یعنی اپنے رشتہ داروں سے بنا کر رکھنی چاہئے۔(5 اسی طرح حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے رشتہ دار ایسے ہیں کہ اگر میں ان سے صلہ رحمی کروں اور بنا کر رکھوں یعنی جوڑ کر رکھوں تو وہ مجھ سے قطع تعلق کر لیتے ہیں ، اگر حسن سلوک کروں تو بدسلوکی سے پیش آتے ہیں۔اگر میں ان کے حق میں بردباری سے کام لوں تو میرے خلاف جہالت یعنی اشتعال انگیزی کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا: فَكَأَنَّمَا تُسِفُهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيْرٌ عَلَيْهِمُ مَادُمْتَ عَلَى ذَلِكَ (76) یہاں یہ تاکید فرمائی کہ وہ تم سے نیکی نہ بھی کریں اور حقوق ادا نہ بھی کریں تو تم ان کے حقوق بہر حال ادا کرتے رہو بلکہ حسن واحسان سے پیش آؤ۔پھر آپ نے فرمایا جب تک تم اس حال پر قائم رہو گے یعنی بدی کے باوجود نیکی کرتے چلے جاؤ گے ظلم کے باوجود احسان کرتے چلے جاؤ گے تو تم ان کے منہ میں مٹی ڈال رہے ہو گے۔یعنی انہیں ان کی حرکتوں پر شرمندہ کر رہے ہو گے۔پس چاہئے کہ تم اسی حال پر قائم رہو۔نیز فرمایا: خبردار! تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔جب تک تم ایسا کرتے رہو گے ، انکی زیادتیوں اور ظلم کے خلاف اللہ تمہارا مددگار رہے گا۔