عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 252
252 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم سے غافل ہو کر انہیں متروک کی طرح چھوڑ دیتی ہے، اس کی ایک بہت بڑی ذمہ داری والدین پر بھی عائد ہوتی ہے۔اپنی دنیا کی لذتوں اور اپنی مصروفیات میں ایسا ملوث ہو جانا جو انکو اولاد کے حقوق ادا کرنے سے باز رکھے، اس پر اولاد بڑے ہو کر اپنا ردعمل دکھاتی ہے اگر چہ Baby Sitters کا رواج اکثر مجبوراً کرنا پڑتا ہے جب ماں باپ دونوں ہی اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے اپنے چھوٹے بچوں کو اکیلا گھر میں چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔لیکن اپنے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ شام کو عیش و عشرت کیلئے باہر نکلتے ہیں تو اس وقت ان کو پھر Baby sitters کی ضرورت پڑتی ہے اور در حقیقت اس کا کوئی جواز نہیں۔انکو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنی شام کی تفریح کے وقت اپنے بچوں کو ساتھ لے کر جایا کریں وگرنہ ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ ایسے بچے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر بعض دفعہ ان بیماریوں سے ان کو کبھی شفا نہیں مل سکتی۔ان میں سے بعض بچے بڑے ہو کر جرائم پیشہ اور آوارہ ہو جاتے ہیں۔اس کا ایک اظہار اعدادو شمار کی صورت میں اب امریکہ کے ایک جائزہ میں ہمارے سامنے آیا ہے۔آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ امریکہ میں ہر سال نو عمر لڑکے جو خود کشی کرتے ہیں ان کی تعداد چار لاکھ ہے۔گویا ہر سال صرف امریکہ ہی میں چار لاکھ محرومیوں کا شکار بچے اپنی محرومیت سے تنگ آ کر خود کشی کر لیتے ہیں اور یہ بیماری بڑھتی چلی جارہی ہے۔یتامی کے حقوق: یتامی کے متعلق بڑی تفصیل سے بار بار قرآن کریم تعلیم دیتا ہے۔وہ بچے جن کے ماں باپ زندہ ہیں کسی حد تک ان کے زیر سایہ تربیت پاتے ہیں لیکن یتیموں کی فکر کون کریگا؟ قرآن کریم نے یہ ذمہ داری تمام معاشرہ پر ڈال دی اور ان بچوں کے حقوق کی بھی نہایت تفصیل سے وضاحت کی۔دنیا کی تمام عالمی کتب میں مجموعی طور پر یتامی کے متعلق ایسی تعلیم نہیں ملتی جیسی قرآن میں موجود ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: وَاَنْ تَقُوْمُوا لِلْيَتَى بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ ( النساء 4: 128) كَانَ بِهِ عَلِيْمان کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات کی بطور خاص تاکید فرماتا ہے کہ تم یتیموں کے حق میں انصاف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ اور جو بھی تم اچھا کام کرو گے یقیناً اللہ اس کا خوب علم رکھتا ہے۔