عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 242
242 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم اس کے بعد آنحضور علہ نے اسی حکایت میں دو ایسے واقعات بیان کئے جو اس شخص کے دوسرے ساتھیوں کے تھے اور وہ محض خدا کی خاطر کی گئی نیکیاں تھیں۔دوسرے شخص نے جب بات ختم کی تو پتھر کچھ اور سرک گیا لیکن ابھی راستہ اتنا کشادہ نہیں ہوا تھا کہ کوئی شخص اس سے گزرسکتا۔پر جب تیسرے نے اپنا واقعہ بیان کیا تو پتھر ایک دفعہ اور سر کا اور راستہ اتنا کشادہ ہو گیا کہ اس میں سے وہ آسانی سے گزر سکتے تھے۔(62) ان دوسرے دو کی تفصیل میں یہاں بیان نہیں کر رہا مگر پہلے واقعہ کی تفصیل اس لئے بیان کی ہے کہ اس کا زیر نظر مضمون سے براہ راست تعلق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندہ کا اپنے والدین سے حسن سلوک کتنا پیارا لگتا ہے۔قرآن کریم نے عدل کے مضمون کو کہیں بھی نظر انداز نہیں فرمایا۔کبھی کبھی عدل سے حسن و احسان کا مضمون ٹکراتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور لوگ غلط فیصلہ کر جاتے ہیں۔اس لئے انصاف کے اوپر یہ حاوی ہے وہ حسن و احسان کو اختیار کرتے ہوئے عدل کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔قرآن کریم نے واضح فرما دیا کہ ہر گز نہیں۔ہر ایک کے حقوق پہلے ادا کرنے ہوں گے کیونکہ عدل کا یہی تقاضا ہے اور جب تک حقوق کی بنیاد قائم نہ کی جائے ، احسان اور ایتا ء ذی القربی کی بالا منازل بنائی ہی نہیں جاسکتیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدُكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمُ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَى مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا (العنكبوت 9:29) كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ترجمہ: اور ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی کہ اپنے والدین سے حُسنِ سلوک کرے اور ( کہا کہ ) اگر وہ تجھ سے جھگڑیں کہ تو میرا شریک ٹھہرائے ، جس کا تجھے کوئی علم نہیں ، تو پھر ان دونوں کی اطاعت نہ کر ، میری ہی طرف تمہارا لوٹ کر آنا ہے پس میں تمہیں ان باتوں سے آگاہ کروں گا جو تم کرتے تھے۔فرمایا: مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا تم ان سے کہو کہ میں جس بات کا علم نہیں رکھتا اس میں آپ کی اطاعت نہیں کر سکتا۔قرآن نے بچوں کو یہاں ماں باپ سے بدتمیزی نہیں سکھلائی کہ ان سے کہیں تم کون ہوتے ہو خدا کے مقابلہ پر