عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 240
240 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم قرآن کریم اس سلسلہ میں فرماتا ہے: وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا (بنی اسرائیل 24:17) ترجمہ: اور تیرے رب نے فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین سے احسان کا سلوک کرو۔اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک تیرے پاس بڑھاپے کی عمر کو پہنچے یا وہ دونوں ہی، تو انہیں اُف تک نہ کہو اور انہیں ڈانٹ نہیں اور انہیں نرمی اور عزت کے ساتھ مخاطب کر۔اس آیت کریمہ کا پہلا حصہ عدل سے تعلق رکھتا ہے اور انسان کا بنیادی فریضہ بیان کر رہا ہے۔جس کے بغیر کوئی انسان انسان کہلانے کا مستحق نہیں رہتا۔اس بیان کے بعد اس آیت کے اگلے ٹکڑے میں فرمایا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا یہ عدل سے آگے بڑھ کر احسان کی تعلیم ہے۔جھڑ کنا تو در کنار تم کو یہی زیبا ہے کہ نہایت عزت کے ساتھ ان سے خطاب کیا کرو۔پھر اسی تعلیم کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن کریم ایتا عذی القربی کا سب سے اعلیٰ درجہ کا اسوہ سکھاتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الدُّلِ مِنَ الرَّحْمَةِ (بنی اسرائیل 25:17) اور رحم کے جذبہ کے ساتھ ان کے سامنے عاجزانہ طور پر جھک جایا کرو۔جَنَاحَ الذُّتِ کا مطلب ہے کہ اپنی رحمت کا پر ان کے اوپر جھکا دو جس طرح کوئی پرندہ اپنے بچوں پر پر جھکاتا ہے اور انہیں خطرہ کے وقت ان پر اپنی حفاظت کا سایہ کر دیتا ہے۔فرمایا اس طرح اپنے ماں باپ کے ساتھ سلوک کرو۔پھر یہ دعا سکھلائی۔وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا (بنی اسرائیل 25:17 ) آیت کے اس حصہ میں والدین کیلئے ایک بہت ہی پیاری دعا سکھلا دی گئی ہے جو اولا دکو اپنی ابتدائی زندگی یاد دلاتی ہے کہ اے خدا میں تو وہ سب کچھ ان سے نہیں کر سکتا جو انہوں نے بچپن