عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 225

قول میں عدل 225 آنحضرت ﷺ کی زندگی میں قول عدل کی مثالیں : درجنوں مثالیں آنحضرت ﷺ کے ذاتی کردار کی دی جاسکتی ہیں اور ان خطابات کے دوران دی بھی جاچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ کامل انصاف کا سلوک فرمایا۔بار ہا آپ نے ایک مسلمان کے خلاف ایک یہودی یا مشرک کے حق میں فیصلہ دیا جب ان کو حق پر پایا۔جہاں تک مالی معاملات میں آپ کے ذاتی کردار کا تعلق ہے آپنے ایک قرض دار کو نہ صرف اس کا پورا قرض ادا کیا بلکہ ہمیشہ ان کے حق سے بڑھ کر عطا فرمایا۔یہی تاکیدی تعلیم آپ نے اپنے صحابہ کو دی۔آپ کا یہ کردار محض مالی تنازعوں سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ آپ کا عمومی کردار تھا کہ ہمیشہ دوسروں کو اپنے حق سے زیادہ دیا کرتے تھے اور محض انصاف نہیں بلکہ احسان کا سلوک فرمایا کرتے تھے اور اسی کی آپ نے اپنے صحابہ کی سوسائٹی میں ترویج کی۔بعض دفعہ آپکے مالی لین دین میں احسان کا عصر تو محض احسان کے دائرہ سے نکل کر بلاشبہ ایتا ء ذالقربی کے دائرہ میں داخل ہو جاتا تھا۔اس کی ایک بہت ہی پیاری مثال مسند احمد بن حنبل سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک غزوہ سے واپس آتے ہوئے آپ نے دیکھا کہ ایک صحابی جابر بن عبد اللہ کا اونٹ بہت آہستہ چل رہا تھا۔رسول اللہ اللہ نے وجہ پوچھی تو اس نے عرض کیا کہ یہ لنگڑا رہا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے کوڑے سے اسے ایک ہلکی سے ضرب لگائی تو وہ ایک اعلی درجہ کے صحت مند اونٹ کی طرح بہت تیزی سے دوڑنے لگا۔رسول اللہ ﷺ نے جابر سے پوچھا کہ کیا تم اس اونٹ کو میرے پاس بیچنا پسند کرو گے؟ جابر نے عرض کیا یہ اونٹ آپ ہی کا ہے۔اس کا کوئی معاوضہ نہیں لوں گا آپ نے فرمایا نہیں۔تمہیں لازماً اسکا معاوضہ لینا ہوگا اور ابھی طے کرو۔اس پر حضرت جابر نے مجبوراً اس کا پورا پورا معاوضہ طے کیا اور درخواست کی کہ اب اس اونٹ پر سواری کرنے کی اجازت دی جائے۔آپ نے بڑی بشاشت سے اسکو اجازت دی اور مدینہ پہنچ کر حکم دیا کہ اس اونٹ کی قیمت کے طور پر میرے حساب میں اتنا سونا تول کر جابڑ کو دے دو۔جب جابر کو قیمت دے دی گئی تو وہ اس اونٹ کو چھوڑ کر پیدل ہی واپس جانے لگا۔رسول اللہ ﷺ نے مسکرا کے فرمایا جابر ! اپنا اونٹ تو لے جاؤ۔اس نے تعجب سے کہا کہ ابھی میں نے اس کی پوری قیمت وصول کی ہے۔آپ نے فرمایا یہ اونٹ بھی اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہی ہے۔(57)