عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 224
224 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم ملاقات وغیرہ میں زبان سے چاپلوسی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں۔دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوسی اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ اِيْتَائِ ذِي الْقُرْبى (56) (النحل 91:16) جو آیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اقتباس میں پیش کی ہے یہ وہی ہے جو میرے ان خطبات کا عنوان ہے یعنی اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ اِيْتَائِ ذِي الْقُرْبى اس آیت میں درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے تین احکامات بیان کیئے گئے ہیں۔پہلا یہ کہ جب بات کرو تو انصاف سے کرو اور دوسرا یہ کہ انصاف ہی سے نہیں بلکہ ہمیشہ نرمی سے بات کرو اور تیسرا اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جیسے تم اپنے بہت ہی عزیز رشتہ دار سے بات کرتے ہو جیسے ماں اپنے کسی پیارے بچے سے گفتگو کر رہی ہو۔جہاں تک پہلے درجہ یعنی عدل کا تعلق ہے اسکی سچائی کا امتحان قرآن کے نزدیک اس وقت ہوتا ہے جب کسی کو اپنے کسی قریبی کے خلاف گواہی دینی پڑے جیسے کہ فرمایا: وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبى قرآن کریم نے دوسری وضاحت قول عدل کی یہ فرمائی وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْ لی کہ وہ لوگ جو عدل کی باتیں کرتے ہیں اگر وہ بچے ہیں تو انکی پہچان یہ ہے کہ جب ان کے قریبیوں کا معاملہ در پیش ہو تو ان کے خلاف بھی کچی گواہی دینے کی طاقت اور قوت رکھتے ہوں لیکن آج آپ دنیا والوں کو دیکھیں اور اس کسوٹی پر ان کو پرکھ کر دیکھیں تو دنیا میں جتنے بڑے بڑے عدل کا دعویٰ کرنے والے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ وہ عدل کا محدود اور نسبتی تصور رکھتے ہیں۔جب اس قسم کے اشتراکات بنائے جاتے ہیں ان کا انصاف کا تصور محض نسبتی ہوتا ہے۔چنانچہ اگر مغربی بلاک کا کوئی لیڈ ر عدل کی بات کرتا ہے تو جب اسکے بلاک اور اسکے تعلق رکھنے والے ممالک کے خلاف کوئی ظلم اور ناانصافی کے بارہ میں احتجاج کرتا ہے تو وہ خاموش ہو جاتا ہے اور ان کے خلاف کوئی تنقید برداشت نہیں کرتا اور اگر ان سب کا مشترکہ دشمن کوئی عدل کے خلاف اقدام کرے خواہ اسکی نا انصافی کسی اور قوم سے ہی ہو تو اس وقت یہ سب مل کر اسکے خلاف شور مچاتے ہیں۔بورژوا اور اشترا کی اتحادات پر یہ بات برابر چسپاں ہوتی ہے۔وہ لوگ جو فی الحیوۃ الدنيا عدل کی باتیں کرتے ہیں جب ان کا اوپر بیان کردہ قرآنی کسوٹی پر امتحان لیا جائے تو اکثر غلط ثابت ہوتا ہے۔