عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 223
قول میں عدل 22- قول میں عدل 223 ہم ایک دفعہ پھر قول میں عدل کے مضمون پر گفتگو کرنے لگے ہیں مگر جو باتیں پہلے بیان کی گئی ہیں ان کی دہرائی نہیں کی جائے گی صرف بعض دیگر پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی۔اس پہلو سے اب میں نے انسانی طبقات کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان کے حقوق کے متعلق بعض قرآنی آیات اور ارشادات نبوی کا انتخاب کیا ہے قول میں عدل وہ جڑ ہے جس سے عدل کا مضمون پھوٹتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبى (الانعام 153:6) کہ جب بھی تم کوئی بات کہو قول میں عدل اختیار کرو خواہ اپنے کسی قریبی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔اس سلسلہ میں یہ بات خاص طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ قول کا عدل ایک ایسی چیز ہے جس کو مختلف معنوں میں سمجھ سکتے ہیں لیکن قرآن کریم نے قول کے عدل کے ہر پہلو کوکھول کر بیان فرمایا ہے۔قول عدل کی پہلی خصوصیت: قول کے لحاظ سے دنیا میں ہم بعض ایسے نظارے بھی دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ بہت خوبصورت اور حسین باتیں کرتے ہیں اور ان کا قول بظاہر عدل پر مبنی ہوتا ہے۔آج تمام دنیا میں جتنے مذہبی، سیاسی یا سماجی لیڈر ہیں وہ عدل کی بات کر رہے ہیں اور ساری دنیا عدل کی باتوں سے بھری ہوئی ہے۔پھر وہ کیا بات ہے جو قرآن کریم نے پیش کی جو نئی اور اس سے مختلف ہے۔ہر دنیا کا لیڈ ر خواہ وہ مشرق سے تعلق رکھتا ہو، خواہ مغرب سے تعلق رکھتا ہو، خواہ اشترا کی فلسفہ سے تعلق رکھتا ہو، خواہ استعماری فلسفہ سے تعلق رکھتا ہو جب بھی وہ بات کرتا ہے عدل کی ہی بات کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دنیا میں عدل قائم ہونا چاہئے ، اس کے سوا امن قائم نہیں ہوسکتا اور پھر بڑی حسین زبان استعمال کرتا ہے۔قرآنی تعلیم کے مطابق ہر وہ شخص جو خدا کا حق ادا نہیں کرتاوہ اس کے بندوں کا بھی حق ادا نہیں کرسکتا۔اس ضمن میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ پیش کرتے ہیں کہ