عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 216
216 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم کو مسجد میں اکٹھا کیا اور منبر پر چڑھ کے اتنا دردناک اور زور دار خطبہ دیا کہ دیکھو میں کیا کروں گا خدا نے میرے ہاتھ میں بنی نوع انسان کی باگ ڈور تھمائی ہے۔میں کیا جواب دوں گا مخلوق خدا کا خون ہو گیا۔خدا مجھ سے پوچھے گا تو کیا کر رہا تھا۔اتنا دردناک خطبہ تھا کہ قاتل اسی وقت اٹھ کے کھڑا ہو گیا۔اس نے کہا۔اے امیر المومنین! میں قاتل ہوں، مجھے سزا دیں، آپ تکلیف میں نہ مبتلا ہوں۔(54) بلاشبہ قاتل کو اس کے بعد قتل کر دیا گیا۔اللہ اس کی روح کو سلامتی عطا فرمائے۔یہ ہے ذمہ کی تعلیم جو آنحضرت ﷺ نے اپنی قوم کو دی اور اس شان کے نظارے عملاً پیدا فرما دیے۔حضرت علی کے پاس ایک دفعہ ایک مسلمان پکڑ کے لایا گیا جس نے ایک ذمی کو قتل کیا تھا۔پورا ثبوت موجود تھا اسلئے حضرت علیؓ نے قصاص میں اس مسلمان کے قتل کئے جانے کا حکم دیا۔قاتل کے ورثاء نے مقتول کے بھائی کو معاوضہ دے کر معاف کرنے پر راضی کر لیا۔حضرت علی کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے اس کے بھائی سے فرمایا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان لوگوں نے تجھے ڈرا دھمکا کر تجھ سے کہلوایا ہو کہ تم اسے معاف کر دو۔آپ نے مقتول کے بھائی کو اس کے حقوق سے آگاہ کیا۔اس نے کہا مجھ پر کوئی دباؤ نہیں۔میں یہ فیصلہ اس لئے کر رہا ہوں کہ قاتل کے قتل کئے جانے سے میرا بھائی تو واپس آنے سے رہا اور اب یہ مجھے اس کی دیت دے رہے ہیں جو پسماندگان کیلئے کسی حد تک کفایت کرے گی اس لئے خود اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے معافی دے رہا ہوں۔اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا یہ تمہارا حق ہے اس کے بعد میں اس کے قتل کا حکم نہیں دیتا لیکن ہماری حکومت کا اصول یہی ہے کہ " من كان له ذمتنا فدمه کد منا و دیته کدیتنا “ یعنی جو ہماری زمی رعایا میں سے ہے اس کا خون ہمارے خون کی طرح ہے اور اس کی دیت ہماری دیت ہی کی طرح ہے۔(55) اس کے بعد حاضرین جلسہ کو کچھ نصائح کی گئیں اور دعائیں دی گئیں جن کا اس کتاب کے قارئین سے کوئی تعلق نہیں اس لئے انہیں مقرر کی اجازت سے حذف کیا جارہا ہے۔(ناشر)