عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 208
208 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم آنحضرت ﷺ کے اسوہ سے ثابت ہے کہ آپ نے کبھی ایک موقعہ پر بھی دشمن کی طرف سے عہد شکنی کے خوف سے اپنے عہد کو نہیں توڑا۔جب تک دشمن کی طرف سے عہد شکنی کا آغاز نہیں ہوا آپ نے جوابی کارروائی نہیں فرمائی۔ہاں عہد شکنی کے آثار ظاہر ہونے کے نتیجہ میں انسدادی اور جوابی کارروائی کی تیاری ضرور کی ہے اور اس طرح عہد شکن دشمن کو آپ نے کبھی یہ موقعہ بھی نہیں دیا کہ وہ اچانک بے خیالی میں آ پکڑے اور مسلمان ایسے حملے کیلئے تیار نہ ہوں۔غیروں سے معاہدات کی دو قسمیں: اب میں آپ کو بتا تا ہوں کہ غیروں سے دو قسم کے معاہدات ہو سکتے ہیں۔ایک ہے دبی ہوئی حالت کا معاہدہ جب مومن مجبور ہے اور دبا ہوا ہے او اس میں یہ صورت حال بھی عملاً واضح فرما دی کہ کس حد تک انسان دب کر اپنا حق چھوڑ سکتا ہے اور ایسا حق چھوڑنا نہ بزدلی ہے اور نہ اخلاقی تقاضوں سے انحراف۔ہاں اس کے برعکس یہ بھی اجازت نہیں دی کہ وقتی مصلحتوں پر کسی اصول کو قربان کر دیا جائے۔یعنی حق اس حد تک چھوڑا جائے گا کہ بنیادی اصولوں سے متصادم نہ ہو۔معاہدہ صلح حدیبیہ: دبی ہوئی حالت کا معاہدہ صلح حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔اس کی بعض اہم شرائط حسب ذیل تھیں۔محضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی اس سال واپس چلے جائیں اور نہ عمرہ کریں ا۔الله نہ حج کریں۔باوجود یکہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ بہت تکلیف اٹھا کے ایک ایسے مقصد کے لئے آئے تھے جس سے روکنے کا مشرکین کا کوئی حق نہیں تھا۔اسکے باوجود آپ نے جب اپنا حق چھوڑا ہے تو کیا یہ اصول کی قربانی نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا سیر حاصل جواب ضروری ہے۔فی الواقعہ یہ بات اصول سے متصادم اسلئے نہیں کہ ایک اور اصول ہے وہ بھی قرآن کریم ہی کا بیان فرمودہ ہے جولازم کرتا ہے کہ بعض حالات میں تمہیں اس حق کو چھوڑنا ہو گا اور وہ حالات یہ ہیں کہ اگر رستے کے امن کے ساتھ بغیر کسی قتال کے تم خانہ کعبہ کا حج نہ کر سکو تو پھر حج نہیں کرنا۔پس یہ بالا اصول اس طوعی حق سے قطعیت کے ساتھ محروم کر رہا ہے۔پس آنحضرت ﷺ نے کسی قرآنی اصول کی قربانی کر کے نہیں بلکہ قرآنی اصول کی تائید میں یہ قربانی پیش کی ہے۔