عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 207
غیروں سے معاهدات 21۔غیروں سے معاہدات 207 قرآن کریم کی یہ خاص شان ہے کہ تمام عہدوں کو انسانی سطح پر یکساں قابل عمل دکھایا ہے اور قومی یا دینی دائروں میں کسی عہد کو محدود نہیں فرمایا یہ وہ تعلیم ہے جو کل عالم سے یکساں تعلق رکھتی ہے اور ہر زمانہ پر یکساں چسپاں ہوسکتی ہے۔چنانچہ فرمایا: إِلَّا الَّذِيْنَ عُهَدْتُّمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَ لَمْ يُظَاهِرُ وَاعَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (التوبه 4:9) سوائے مشرکین میں سے ایسے لوگوں کے جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا پھر انہوں نے تم سے کوئی عہد شکنی نہیں کی اور تمہارے خلاف کسی اور کی مدد بھی نہیں کی۔پس تم ان کے ساتھ معاہدہ کو طے کردہ مدت تک پورا کرو۔یقیناً اللہ متقیوں سے محبت کرتا ہے۔ی کیسی عظیم الشان عدل کی تعلیم ہے۔فرمایا ہم تمہیں صرف ان ہی عہدوں کا پابند نہیں کر ر ہے جو تم ہم سے کرتے ہو یا ہمارے نبی سے کرتے ہو۔اس میں اس بات کا بھی کوئی دخل نہیں کہ جس سے عہد کر رہے ہو وہ طاقتور ہے یا کمزور ہے یا نیک ہے یابد۔بلکہ عہد کی پابندی تمہیں ہر ایک اصول کے طور پر ہر پہلو سے کرنی ہوگی۔مشرکوں سے عہد کی بھی وہی وقعت بیان فرمائی ہے جو ہر کسی دوسرے عہد کی بیان کی گئی ہے۔ہاں اگر ان کی طرف سے پابندی عہد میں کمزوری کے آثار ظاہر ہوں اور ایسی علامتیں سامنے آئیں جن سے معلوم ہو کہ وہ عہد شکنی کی تیاری کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں اسی حد تک جوابی کاروائی کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ مراد نہیں کہ عہد شکنی کے خوف کے نتیجے میں عہد توڑ دو بلکہ جس حد تک وہ کاروائی کرتے ہیں اسی حد تک جوابی کاروائی کی اجازت ہے۔چنانچہ فرمایا:- وَامَّا تَخَافَنَ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْخَابِنِيْنَ (الانفال 59:8) اور اگر کسی قوم سے تو خیانت کا خوف کرے تو ان سے ویسا ہی کر جیسا انہوں نے کیا ہو۔اللہ خیانت کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔