عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 206
206 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم روایات میں آتا ہے کہ دیر کے بعد اسے احساس ہوا کہ میں اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا ہوں۔وہ آیا اور آنحضرت مے سے معافی مانگی کہ میں اب سب کچھ دینے کیلئے تیار ہوں مگر آپ نے فرمایا کہ کبھی ایسا نہ ہوگا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد پھر وہ حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا رسول اللہ اللہ کا تو وصال ہو چکا ہے میں مال پیش کرنا چاہتا ہوں قبول کیا جائے۔حضرت ابو بکر نے کہا کہ جس کے مال کو محمد رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں ابو بکر بن ابی قحافہ کون ہوتا ہے اسکو قبول کرنے والا۔پھر وہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آ کے یہی پیشکش کی۔انہوں نے بھی یہی کہا کہ عمر کون ہوتا ہے کہ جس کا مال رسول اللہ علے رد فرما دیں اسے عمر قبول کرلے۔غرضیکہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کا مال بڑھتا چلا گیا اور اس نے عمر بھی اتنی پائی کہ یکے بعد دیگرے ایک خلیفہ کے بعد دوسرے خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہو کر مال قبول کرنے کی درخواست کرتا رہا مگر ہر درخواست رد کر دی گئی۔(47) دوسروں کو کیا پتہ کہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو خدا سے منافقانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔بعض دفعہ دوسروں کو بھی اس کی خبر ہو جاتی ہے جیسا کہ مذکورہ واقعہ کی اطلاع ہم تک پہنچی۔مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے منافقین دنیا کو دھوکہ دیں اور خدا کی خاطر سب کچھ قربان کرنے کی بڑھ بڑھ کے باتیں کریں۔یہ دھو کہ اس وقت تک ایسا ملتا ہے جب تک خدا ان کے پردے چاک نہیں کر دیتا۔جماعت احمدیہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے لتھی مالی قربانی کا ایک مضبوط اور مستحکم نظام چل رہا ہے۔بعض اوقات بعض لوگ یہ تعلی کرتے ہیں کہ وہ اپنا سب کچھ خدا کی خاطر قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔اگر چہ ایسے لوگ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں مگر پھر بھی جماعت کی اس اکثریت کے ساتھ یہ بھی ملے رہتے ہیں جو اپنے عہدوں میں پوری طرح مخلص ہیں۔جب آخر خدا ایسے منافقین کو ننگا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کی منافقانہ چال ظاہر کر دی جاتی ہے۔پس یہ وعدے کے بعد مالی کمزوری یا مجبوری کی وجہ سے اسے پورا نہ کرنے والوں کا ذکر نہیں ہے بلکہ محض ان کا ذکر ہے جن کی نیت میں آغا ز ہی سے نفاق شامل ہوتا ہے۔اسی مضمون پر قرآن کریم کی دیگر کئی آیات بھی روشنی ڈالتی ہیں۔آنحضرت ﷺے عہد شکن کو منافق قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ اس حدیث میں ہے۔فرمایا: اذا عاهد غدر کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے اور دھوکہ دیتا ہے۔(8 (48) اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر چہ نفاق کا تعلق دل سے ہے مگر اس کی کچھ علامتیں جب باہر پھوٹ پڑیں تو منافق کی نشان دہی بھی ہو جایا کرتی ہے۔