عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 204
204 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے چا حضرت انس بن النضر غزوہ بدر کے وقت موجود نہیں تھے۔آپ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں اس پہلی جنگ کے وقت جو آپ نے مشرکین سے لڑی تھی موجود نہیں تھا۔اگر اللہ نے مجھے آئندہ مشرکین سے لڑائی کا موقعہ دیا تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔پس اپنی محرومی کے غم کے ازالہ کیلئے انہوں نے خدا سے ایک عہد باندھا۔کچھ اسی قسم کی سوچوں میں مبتلا ہونگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منجملہ جن پیارے بندوں کا ذکر فرمایا ان میں یہ خوش نصیب بھی شامل ہوئے۔چنانچہ جنگ احد کے دوران ایک ایسا موقعہ بھی آیا کہ کفارا چانک اس طرح پلٹ پڑے کہ مسلمان اس کی توقع نہیں رکھتے تھے اور ایک سراسیمگی کا عالم طاری ہوا اور بڑے بڑے جیالوں اور وفاداروں کے پاؤں بھی اکھڑ گئے۔یہاں تک کہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت یہ تن تنہا میدان کارزار میں کھڑے اپنے ساتھیوں کو بلا رہے تھے۔یہ وہ وقت تھا کہ جب کہ زخموں کی تاب نہ لا کر آنحضرت ایک گڑھے میں گر گئے اور لاشوں نے آپ کو ڈھانپ لیا۔اس وقت دشمن یہ سمجھا کہ وہ آنحضور ﷺ کوقتل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔اس وقت کچھ مسلمان ٹولیاں جگہ جگہ ابھی برسر پر کار تھیں مگر جب دشمن کا یہ اعلان سنا کہ محمد ﷺ کوقتل کر دیا گیا ہے تو جو سراسیمگی کا عالم طاری ہوا وہ نا قابل بیان ہے۔اس وقت حضرت انس کی روایت کے مطابق حضرت انس بن النضر نے کہا۔اے اللہ ! میں ان (مسلمانوں ) کے اس فعل سے تیرے حضور معذرت چاہتا ہوں اور جوان (مشرکین ) نے کیا ہے اس سے بھی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔پھر وہ آگے بڑھے تو سعد بن معاد سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا۔اے سعد بن معاذ ! نضر کے رب کی قسم جنت (سامنے ہے)۔مجھے احد کے اس جانب سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔حضرت سعد بن معادؓ نے حضور ﷺ کو بتایا کہ یارسول اللہ ! جو جوانمردی انہوں نے دکھائی وہ میری بساط سے باہر ہے۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب ( جنگ کے بعد ) ہم نے انہیں پایا تو ان کے جسم پر اسی (۸۰) سے زیادہ تلواروں ، تیروں اور نیزوں کے زخم تھے۔مشرکین نے ان کے کان ، ناک وغیرہ کاٹ لئے تھے جس کے باعث کوئی انہیں پہچان نہ سکا جبکہ صرف ان کی بہن نے انگلیوں کے پوروں سے انہیں پہچانا۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال اور گمان ہے کہ قرآن کریم کی آیت ” مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالُ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ۔۔۔۔۔الخ “ ان کے بارہ میں اور ان جیسے دیگر حضرات کے بارہ میں نازل ہوئی ہے۔(46)