عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 199
بندہ سے خدا کا معاہدہ اور ذیلی معاهدات 199 کی کس تعلیم سے انہوں نے روگردانی کی تھی جسکی انہیں یہ سزا دی گئی۔لیکن چونکہ سزا کو جرم سے ایک مناسبت ہوتی ہے اس لئے سزا کا ذکر ہی ان کے جرائم کے چہرہ سے بھی پردہ اٹھا دیتا ہے۔سزا یہ ہے کہ وہ قیامت تک ایک دوسرے سے باہمی نفرت کرتے رہیں گے اور بغض کا شکار ہونگے۔یعنی عیسائی قوموں میں ہمیشہ باہمی جنگ و جدل جاری رہے گا۔چنانچہ عیسائی دنیا میں ہمیں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔پہلی جنگ عظیم میں ہم نے یہی دیکھا، دوسری جنگ عظیم میں یہی دیکھا۔یہ در اصل عیسائی قوموں کی عالمی جنگوں کا فتنہ تھا جس کا آپ نے مشاہدہ کیا اور ان میں البغضاء کی کیفیت ایسی بتائی گئی ہے جس کے متعلق فرمایا کہ قیامت تک چلتی چلی جائے گی۔اس کے علاوہ بھی ان کی کالونیل تاریخ میں مختلف ممالک کو زیرنگیں کرنے میں جب بھی آپس میں ان کے مفادات ٹکراتے ہیں تو ہر ایسے موقعہ پر یہ سخت چپقلش کا شکار ہو جاتے ہیں۔گویا ایک واحد انصاف کا پیمانہ سامنے نہیں رہتا اور ہر ایک یہی کہتا ہے کہ ہم انصاف پر ہیں۔چنانچہ تقسیم ہندوستان میں بھی یہی ہوا۔افریقہ کے ممالک میں بھی یہی تاریخ دہرائی گئی۔امریکہ میں بھی شمال سے جنوب تک یہی اندرونی چپقلش ہے جس نے عیسائی دنیا کو آپس میں بانٹے رکھا ہے۔سیاسی سطح پر ایسی چپقلش جو مسلسل ایک تاریخ کا حصہ بن جائے اور خطر ناک جنگوں کی صورت پر منتج ہو۔یہ وہ سزا ہے جسکا قرآن کریم نے وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔پس یہ استنباط بعید از قیاس معلوم نہیں ہوتا کہ وہ جرم جسکی یہ سزا تھی یہ تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیم کے مطابق ایک خدا کو تسلیم کرنے کے باوجود انہوں نے خدا کی شخصیت کو پھاڑ دیا۔یعنی ظاہری خدا ایک ہی رہا مگر اندرونی طور پر شخصیت پھٹ گئی۔پس وہ سزا جس کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس جرم سے عین مطابقت رکھتی ہے۔نقض عہد کی مزید سزائیں: قرآن کریم عہد شکنی کی مختلف سزائیں مختلف جرائم کو پیش نظر رکھ کر بیان فرما رہا ہے۔غالبا دنیا کی کسی مذہبی کتاب میں اس طرح جرم بہ جرم ایک منطقی نتیجہ کے طور پر انکی سزاؤں کا بیان نہیں ملے گا۔ہاں کسی حد تک بائبل میں بعض جرموں کی بعض سزائیں معین طور پر بیان ہوئی ہیں۔ان سب کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے مقابل کی سزاؤں کا ایسا ذکر قرآن کریم ہی کی شان ہے اور یہ سزائیں ہمیشہ کسی معین مذہب کے حوالہ سے نہیں بتائی جار ہیں بلکہ ان جرائم کا بھی ذکر ہے جو بالعموم بنی نوع انسان میں مذہب کے تعلق میں ملتے ہیں اور ہر مذہب والے اپنے بگڑے ہوئے دور میں بالعموم ایسے ہی جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔پس اس تعلق میں اسلام یا یہودیت یا عیسائیت یا ہندومت