عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 198

198 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم کے خلاف فتویٰ دینے میں ایسی عمومیت اختیار نہیں کرتا کہ ساری قوم کو ہی یک قلم مردود قرار دیدے بلك إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ میں بالخصوص مومنوں کو متوجہ فرمایا کہ جہانتک تمہارا تعلق ہے تم کسی قوم کو بحیثیت قوم تمام تر خائن اور بددیانت اور بد عہد قرار نہیں دے سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ ان میں سے بعض نیک اور سچے اور انصاف پسند لوگ بھی ہوتے ہیں۔جہاں تک بندے کا تعلق ہے دوسرے کو متہم کرنے میں اس پر بہت احتیاط لازم ہے کیونکہ وہ عالم الغیب نہیں۔ایک اور جگہ عہد شکنی کی سزاؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: أوليك لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (الرعد 26:13 ) ہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے بدتر گھر ہوگا۔یعنی ایسے لوگوں پر خدا کی لعنت کی ماراس رنگ میں پڑتی ہے کہ ہر معاملہ میں یہ لوگ بد انجام ہو جاتے ہیں۔سوء الدَّارِ “ کا ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخرت میں انکا ٹھکانہ برا ہو گا اور ان کا آخری گھر ان کے لئے بہت ہی تکلیف دہ ثابت ہوگا۔جرم اور سزا میں باہمی مناسبت : اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو اس کے نقض عہد کی ایسی سزا دی ہے جو اس کے عہد کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔چنانچہ فرمایا: وَمِنَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّا نَصْرَى أَخَذْنَا مِيْثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَة وَسَوفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ) ( المائدة 15:5) اور اُن لوگوں سے ( بھی ) جنہوں نے کہا کہ ہم نصاری ہیں ہم نے ان کا میثاق لیا پھر وہ بھی اس میں سے ایک حصہ بھلا بیٹھے جس کی انہیں تاکیدی نصیحت کی گئی تھی۔پس ہم نے ان کے درمیان قیامت کے دن تک باہمی دشمنی اور بغض مقدر کر دیئے ہیں اور اللہ ضرور اُن کو اس ( کے بدانجام ) سے آگاہ کرے گا جو صنعتیں وہ بنایا کرتے تھے۔خدا تعالیٰ جرم کے مطابق سزا دیتا ہے انہوں نے ایک حصہ کی نافرمانی کی تو اسی کے مطابق ان پر سز لازم آتی ہے۔قرآن کریم نے اس موقعہ پر سزا تو معین کر دی ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ عیسائیت