عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 190
190 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه سوم سَوَّيْتُه “ کے بیان میں زندگی کے پیدائش کے آغاز سے لیکر جو کچھ مٹی سے ہوا۔ارتقاء کی وہ ساری منازل بیان ہو گئیں جن سے گزرتا ہوا انسان بالآخر شجر تخلیق کے سب سے آخری پھل کی صورت میں ظاہر ہوا۔غور طلب بات یہ ہے کہ اس کے باوجود کہ اسکا تسویہ ہو گیا اور ہر پہلو سے وہ ٹھیک ٹھاک بنادیا گیا یہ نہیں فرمایا کہ باقی سب زندہ وجود اسکی اطاعت میں جھک جائیں بلکہ ایک شرط عائد فرمائی کہ جب میں اس میں اپنی روح پھونکوں تب اسکی اطاعت تم پر فرض ہوگی۔روح کا لفظ بہت سے معانی پر اطلاق پاتا ہے۔عام طور پر سابقہ بہت سے مسلمان علماء یہ مطلب سمجھتے رہے کہ اس سے مراد زندگی ہے اور تخلیق کا نقشہ ان کے ذہن میں یہ ابھرا کہ خدا تعالیٰ نے مٹی سے ایک مادھو بنایا پھر اس کے نوک پلک درست کئے جس طرح ایک بت گرمٹی کا بت بناتا ہے اور پھر کہیں اس کے نقش ابھارتا ہے، کہیں بعض حصوں کو دباتا ہے، کہیں خم پیدا کرتا ہے۔غرضیکہ بڑی محنت سے اور توجہ سے رفتہ رفتہ اس کے نوک پلک درست کر کے اسے ایک خوبصورت انسانی پیکر میں تبدیل کر دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے عمل فرمایا۔پس ٹھیک ٹھاک کرنے کے عمل تک وہ محض بت کا بت تھا اور اسمیں زندگی کی کوئی رمق پیدا نہیں ہوئی تھی۔پھر جب یہ فرمایا کہ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِی “ تو مراد یہ ہے کہ آسمیں زندگی پھونکی۔افسوس کہ اس تمسخر آمیز تخلیق آدم کا تصور باندھنے سے پہلے انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ کہیں ایک جگہ بھی خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ پھر میں نے اسے زندہ کر دیا۔حالانکہ اگر " نَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی “ سے مراد زندگی عطا کرنا ہوتا تو کسی ایک جگہ تو خدا تعالیٰ نے سیدھے سادھے لفظوں میں ذکر فرما دیا ہوتا مثلاً فــلــمــا احبيته “ کہا جا سکتا تھا۔کہ جب میں اسے زندہ کر دوں۔مزید برآں ایسے علماء کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیئے تھا کہ اپنی روح پھونکنے کا ذکر ہے۔کیا نعوذ بالله من ذلک خدا نے اپنی زندگی میں سے کچھ حصہ آدم کے جسم میں داخل فرمایا تھا۔پھر روح کا کیا معنی ہے۔قرآن کریم اس مسئلہ کو یوں حل فرماتا ہے: وَيَسْلُوْنَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي ( بنی اسرائیل 86:17) اور وہ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں۔تو کہہ دے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔یعنی روح سے مراد اللہ کا امر ہے۔اور بائبل کے محاورہ میں لفظ کلام بھی اسی امر کی طرف اشارہ کرتا ہو ا معلوم ہوتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کو جو Word of God کہا جاتا ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کے امر سے پیدا ہوئے ہیں۔