عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 177 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 177

ايك نئی قسم کی شهادت 177 بھی نبی کی تائید میں جاری کیا جاتا ہے جسکا ذکر حسب ذیل آیت میں ملتا ہے۔فرمایا: وَ مِنْ قَبْلِهِ كِتُبُ مُوسَى اِمَامًا وَ رَحْمَةً وَهَذَا كِتَبُ مُّصَدِّقُ لِسَانًا عَرَبِيَّا لِيُنْذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ (الاحقاف 13:46) اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب ایک رہنما اور رحمت کے طور پر تھی۔اور یہ ایک تصدیق کرنے والی کتاب ہے جو فصیح و بلیغ زبان میں ہے تا کہ ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے ظلم کیا اور بطورِ خوشخبری ہو ان کے لئے جو احسان کرنے والے ہیں۔اس آیت کا منطوق یہ ہے کہ موسیٰ نے جس وجود کے ظاہر ہونے کی معین خبر دی تھی وہ وجود محمد رسول اللہ ﷺ کی صورت میں ظاہر ہو گیا۔پس جہاں موسیٰ علیہ السلام ، حضرت محمد رسول الله علی کے مصدق بنے وہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اپنی بعثت کے ساتھ موسی کے بھی مصدق ہو گئے۔(الاحقاف 11:46) پھر فرمایا:۔قُلْ أَرَعَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيْلَ عَلَى مِثْلِهِ فَامَنَ وَاسْتَكْبَرْتُم إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ تو پوچھ کہ کیا تم نے (اس کے نتیجہ پر غور کیا کہ اگر وہ اللہ کی طرف سے ہی ہو اور تم اس کا انکار کر چکے ہو، حالانکہ بنی اسرائیل میں سے بھی ایک گواہی دینے والے نے اس کے مثیل کے حق میں گواہی دی تھی پس وہ تو ایمان لے آیا اور تم نے استکبار کیا۔یقیناً اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ بھی بنی اسرائیل میں ایسے گواہی دینے والے موجود ہیں۔فَا مَن وَاسْتَكْبَرُ تُم کہ انہوں نے جب تو رات کا مطالعہ کیا ، ان گواہوں کو دیکھا تو وہ ایمان لے آئے اور تمہارا یہ حال ہے کہ جب وہ وجود ظاہر ہو چکا ہے تب بھی تم اسکو نہیں پہچان رہے۔وَاسْتَكْبَرْتُم ، در اصل تم تکبر کی وجہ سے منکر ہورہے ہو۔اس میں ایک نیا مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ محض شہادت کافی نہیں ہوا کرتی ،شہادت قبول کرنے والے میں بھی راستی اور سعادت ہونی چاہیئے۔ایک ہی شہادت آپ ایک حج کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ بالکل مطمئن ہو جاتا ہے اور اسے درست اور قطعی تسلیم کر لیتا ہے۔وہی شہادت ایک دوسرے حج کے سامنے