عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 147
امانت اور احتساب 147 وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى الَّا تَعْدِلُوا (المائد: 9:5) ترجمہ: اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو۔یہود اور مسلمانوں کی قدیم دشمنی کو دشمنانِ اسلام نے ہمیشہ ناجائز طور پر اچھالا اور ہوا دی ہے۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مسلمانوں اور یہود کے مابین پیدا ہونے والے اختلافات کو اس آیت کے تابع کامل عدل کے ساتھ حل فرمایا کرتے تھے۔ایسے معاملات میں درج ذیل واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی روشن اور زندہ مثال ہے: بنونظیر، مدینہ میں آباد ایک یہودی قبیلہ تھا۔یہ قبیلہ غزوہ خندق کے دوران اپنے مسلم اتحادیوں سے غداری اور دھوکہ دہی کی پاداش میں مدینہ سے نکالا جاچکا تھا۔اگر چہ طالمو کی تعلیم کے مطابق ان کے اس سنگین جرم کی سزا صرف اور صرف موت تھی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر شفقت فرماتے ہوئے سزائے موت کی بجائے صرف مدینہ بدر کرنے کا حکم صادر فرمایا۔چنانچہ وہ مدینہ سے ہجرت کر کے خیبر کے مقام پر چلے گئے جہاں انہوں نے خیبر کے نام سے ایک نہایت مضبوط قلعہ تعمیر کیا۔طاقت مجتمع کر لینے کے بعد انہوں نے خلاف اسلام سرگرمیوں کا از سر نو آغا ز کر دیا۔اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔مختصر یہ کہ ان کا یہ جارحانہ پن بالآخر غزوہ خیبر کے ساتھ ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔جنگ سے پہلے جب مسلمانوں کی طرف سے نگران دستے کبھی کبھاراس علاقہ میں بجھوائے جاتے تھے تو ان میں سے ایک دستے نے ان کی ایک نو آبادی میں لوٹ کھسوٹ کی اور پھلوں کے کچھ باغات کو بھی نقصان پہنچایا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد تکلیف پہنچ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔نیز یہ تنبیہ بھی فرمائی کہ: اللہ تعالیٰ تمہیں اہلِ کتاب کے گھروں میں ان کی اجازت کے بغیر داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اسی طرح ان کی خواتین کو قتل کرنا یا باغات (36)۔۔میں سے پھل توڑنا بھی تمہارے لئے حرام ہے۔مختصر یہ کہ ان کی شدیدمذہبی عداوت کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عدل مطلق کی قرآنی تعلیم پر ختی سے کار بندر ہے۔قرآن کریم میں اپنے عزیز رشتے داروں کے خلاف گواہی دینے کے معاملے میں بھی عدل مطلق کی ہی تاکید ملتی ہے۔چنانچہ فرمایا: