عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 140

140 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم جانے میں کوئی نیکی نہیں ہے۔مثال کے طور پر صدقات دینا ایک نیک عمل ہے لیکن یہ نا انصافی ہے کہ کوئی شخص اپنے خاندان اور زیر کفالت لوگوں کو یکسر نظر انداز کر کے سارا مال و دولت خیرات کر دے۔اسی طرح نماز پڑھنا نیکی ہے لیکن اس سے دوسروں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے۔مندرجہ ذیل حدیث اس نکتے کی خوب وضاحت کرتی ہے: وو روایت ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نماز پڑھائی جیسے آپ بہت جلدی میں ہوں اور معمول سے بہت کم وقت میں نماز مکمل کر لی۔نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ دورانِ نماز میں نے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی۔چنانچہ اس کی تکلیف کے خیال سے نماز مختصر کر دی۔(31)۔۔بخاری کتاب الصلوۃ کی ایک روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معلوم ہونے پر کہ ایک امام لمبی نماز پڑھانے کا عادی ہے، ناراضگی کا اظہار فرمایا۔(2) عبادت کی اقسام: اسلامی نظامِ عبادت ایک اور منفر د خصوصیت کا حامل ہے۔اس کی تمام عبادات تین اقسام پر مشتمل ہیں: (1) فرائض (2) سنت اور واجب (3) نوافل تمام پنجوقتہ نمازیں انہی تین اقسام پر مشتمل ہیں۔مرکزی حصہ ” فرض“ کہلاتا ہے۔فرض ہر نماز کا وہ بنیادی اور مرکزی حصہ ہے جسے کسی بھی حالت میں چھوڑ انہیں جاسکتا۔یہ اس بنیادی ڈھانچے سے مشابہ ہے جس پر ہر زندہ جسم کی تعمیر ہوتی ہے۔ساری روحانی زندگی اسی مرکزی نکتے کے گرد گھومتی ہے۔پنجوقتہ نمازوں کے کسی بھی فرض کو چھوڑ دینے سے پوری نماز کالعدم ہو جاتی ہے۔سنت ، واجب اور نفل ، نماز میں اس روحانی جسم کیلئے عضلات، گوشت پوست اور جلد کی حیثیت رکھتے ہیں جنہیں چھوڑ دینے سے فرض نمازیں کمزور پڑ جاتی ہیں جبکہ ان کی ادائیگی نماز کوحسن ، رنگ اور خوشبوعطا کرتی ہے۔نوافل کے بارے میں ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: