عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 129
عبادت میں عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کا مقام 129 لگتا ہے۔پس جو شخص اس طریق پر عبادت بجالاتا ہے وہ دیکھے گا کہ اب اس کیلئے اپنی پہلی غفلت کی حالت میں دوبارہ لوٹ جانا ناممکن ہو چکا ہے اور وہ قطعاً نہیں چاہے گا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وصل کی اس کیفیت میں کسی قسم کا کوئی تعطل واقع ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی مرکزی خیال کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اس درجہ کے بعد ایک اور درجہ ہے جس کا نام ایتاء ذی القربی ہے اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب انسان ایک مدت تک احسانات الہی کو بلا شرکتِ اسباب دیکھتار ہے اور اس کو حاضر اور بلا واسطہ حسن سمجھ کر اس کی عبادت کرتا رہے تو اس تصور اور تخیل کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ذاتی محبت اس کو جناب الہی کی نسبت پیدا ہو جائے گی کیونکہ متواتر احسانات کا دائمی ملاحظہ بالضرورت شخص ممنون کے دل میں یہ اثر پیدا کرتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ اس شخص کی ذاتی محبت سے بھر جاتا ہے جس کے غیر محدود احسانات اس پر محیط ہو گئے۔پس اس صورت میں وہ صرف احسانات کے تصور سے اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ اس کی ذاتی محبت اس کے دل میں بیٹھ جاتی ہے جیسا کہ بچہ کو ایک ذاتی محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے۔پس اس مرتبہ پر وہ عبادت کے وقت صرف خدا تعالیٰ کو دیکھتا ہی نہیں بلکہ دیکھ کر بچے عشاق کی طرح لذت بھی اٹھاتا ہے اور تمام اغراض نفسانی معدوم ہو کر ذاتی محبت اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اور یہ وہ مرتبہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے لفظ ابْتَائِ ذِي الْقُرْبی سے تعبیر کیا ہے اور اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے ، فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ،، * (23) ترجمہ: اللہ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ ذکر۔کیسا عمدہ اسلوب تحریر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محبت الہی کے لطیف ترین پہلوکو بھی اندرونی تفاصیل کے ساتھ بیان فرما دیا ہے۔آگے چل کر مزید فرماتے ہیں: