عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 91
اسلام مذہبی تعلیمات کا منتهی 91 اصلاحات ہوتی رہی ہیں۔پس اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام دیگر مذاہب کورد کر کے صداقت پر اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کے نزدیک خدا کا تصور تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے۔مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ بنیادی تعلیم اپنی مضبوطی اور حجم میں بڑھتی گئی اور اس کی کئی شاخیں نکل آئیں جو اس مذہب کی ثانوی تعلیمات کی حیثیت رکھتی تھیں۔پھر مذہبی ارتقا کے ساتھ ساتھ ان ثانوی تعلیمات کا پھیلاؤ بنیادی تعلیم کی نسبت زیادہ ہو گیا۔یہ شاخیں جو بنیادی تعلیم سے پھوٹی تھیں تبدیل ہوتی رہیں لیکن بنیاد میں کوئی تغیر نہیں ہوا۔قرآن کریم ایک ایسے مذہب کا دعویدار ہے جو بنیادی فطرت کو قربان کئے بغیر انسانی کردار کے تمام ضروری پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔اس کے لئے دِین قيِّمة “ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جس کے معنی دین برحق کے ہیں۔نیز اس میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ نہ صرف یہ اپنی ذات میں ایک سچا دین ہے بلکہ اپنے اندر یہ طاقت بھی رکھتا ہے کہ دوسروں کو حق پر قائم کرے۔مذہب تو خدا تعالیٰ کا وہ کلام ہے جو انسانی فطرت پر نقش ہے اور تمام بنی نوع انسان خدا تعالیٰ کی فطرت کا ہی نقش اپنے اندر رکھتے ہیں۔اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ ترجمہ: ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید فرماتے ہیں: (9) مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِسَانِهِ۔ترجمہ: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے والدین اُسے یہودی یا عیسائی ا (10) یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک فطرت انسانی اور دینِ اسلام ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔تاہم ماں باپ بچے کا رخ جس طرف چاہیں موڑ سکتے ہیں۔فرائڈ نے کئی الجھے ہوئے اور مخش نظریات دنیا کے سامنے پیش کئے جن میں سے کئی اب تک غلط ثابت ہو چکے ہیں۔وہ بالعموم مذہب کا اور خصوصاً اسلام کا مخالف تھا۔مذہب کو بے وقعت کرنے اور ہستی باری تعالیٰ کو رد کرنے کی کوشش میں اس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ بچے کے مذہب کا اس کی شخصیت پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔بچے کی پرورش اس رنگ میں بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ دہریہ بن جائے