عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 89

اسلام مذهبی تعلیمات کا منتهی 89 صراط مستقیم کی ہی تعلیم دی گئی تھی جیسا کہ مذکورہ بالا آیات میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ ایک عالمگیر نبی کب دنیا میں آیا ؟ اور صراط مستقیم کا عالمی تصور پیدا کب ہوا؟ یہ بات سمجھنے کیلئے ان قرآنی آیات کا مطالعہ مد ثابت ہوتا ہے جن میں اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمی اور آفاقی حیثیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس بارے میں قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبياء 108:21) ترجمہ: اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کیلئے رحمت کے طور پر۔نیز فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (29:34) ترجمہ: اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کیلئے بشیر اور نذیر بنا کر۔مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔یہ بات خصوصاً قابل ذکر ہے کہ نزول قرآن تک قرآن کریم کے علاوہ کسی اور الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ کسی عالمگیر پیغام اور شریعت کی حامل ہے اور نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی اور نبی نے تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کرتے ہوئے بلا تمیز قوم اور ملت عالمگیر رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بھی انبیا نے محض اپنی قوم کو مخاطب کیا ہے۔زیادہ سے زیادہ انہوں نے ہمسایہ اقوام یا اپنی قوم میں رہنے والے غیر اقوام کے افراد کو اپنے مخاطبین میں شامل کیا ہے۔لیکن بنی نوع انسان کو بحیثیت مجموعی قرآن کریم کے سوا کسی نے مخاطب نہیں کیا۔اس لئے گزشتہ مذاہب میں صراط مستقیم کے معانی ان کی مخصوص ضروریات تک ہی محدود سمجھے جانے چاہئیں۔اسلام اور فطرت انسانی یہ حقیقت واضح ہو جانے کے بعد کہ قرآن کریم وہ واحد الہامی کتاب ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ کل اقوام عالم اور سارے زمانوں کیلئے ہے، یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس کی تعلیمات سب انسانوں پر یکساں اطلاق پائیں گی۔ان میں انسانی معاشرے کے کسی ایک حصے کو فوقیت دینے کا کوئی امکان نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس کی تعلیم کسی ایک علاقے پر اطلاق پانی چاہئے۔اسے زمان و مکان کی