عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 72

72 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّى خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَامَّسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سجِدِينَ (30,29:15 31) ترجمہ: اور (یاد کر) جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں گلے سڑے کیچڑ سے بنی ہوئی خشک کھنکتی ہوئی ٹھیکریوں سے بشر پیدا کرنے والا ہوں۔پس جب میں اسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنا کلام پھونکوں تو اس کی اطاعت میں سجدہ ریز ہو جانا۔ایسا ہی ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سورۃ کہف میں یوں ملتا ہے: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا (الكهف 111:18) ترجمہ: کہہ دے کہ میں تو محض تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔پس جو کوئی اپنے رب کی لقاء چاہتا ہے وہ ( بھی ) نیک عمل بجالائے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔نفخ روح کی اولین شرط ” تقوی، یعنی خوف خدا ہے۔مراد یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں خوف خدا رکھنے والا ہی مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مشرف کیا جاتا ہے۔چنانچہ صرف اور صرف تقویٰ ہی باعث عزت و تکریم ہے۔نفخ روح (سورۃ الحجر: 30) یعنی اللہ تعالیٰ کا کسی کے اندر ” زندگی کی روح پھونکنا“ کے الفاظ ہمیشہ صرف انسانوں کیلئے استعمال ہوئے ہیں، جانوروں کے تعلق میں یہ الفاظ استعمال نہیں ہوئے۔نفخ “ سے مراد کسی چیز میں پھونکنا ہے۔اس اصطلاح کے اول معنی زندگی کی روح پھونکنا ہے لیکن اس سیاق وسباق میں یہ اصطلاح صرف انسانوں کیلئے ہی مخصوص ہے۔تمام جانداروں میں انا اور شعور کا ایک مرکز ہوتا ہے لیکن یہ شعور اپنی ذات میں اس قابل نہیں ہوتا کہ جسمانی زندگی کے بعد بھی زندہ رہ سکے۔روح کے بالمقابل ”زندگی“ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے جو کہ تمام جانداروں کو دی گئی ہے لیکن روح صرف انسانوں کو عطا کی گئی ہے۔