عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 69

عدل سے انحراف 69 طرف سے انسان کو میسر ہے اسے دوسری مخلوق تک بھی پہنچایا جائے۔پس اگر کوئی دوسروں کی حفاظت اور امن کی ذمہ داری سے غافل ہے تو اس کا ایمان کمزور ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسلامی تعلیمات کا دائرہ انسان کی ادنی ترین ضروریات پر بھی حاوی ہے۔لیکن یہ امر مضحکہ خیز ہونے کے ساتھ ساتھ دردناک بھی ہے کہ آج اکثر مسلم ممالک میں ان بنیادی تعلیمات کی خلاف ورزی عام ہے۔سڑکوں اور رستوں کی مرمت ہی نہیں ہوتی اور ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے یہاں تک کہ بعض حکومتی ادارے بھی جب پائپ یا تاریں وغیرہ بچھانے کیلئے اہم اور بڑی بڑی شاہراہوں پر کھدائی کرتے ہیں تو انہیں ویسا ہی کھلے کا کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔وہاں نہ تو خطرہ کی نشان دہی کرنے کیلئے کوئی روک کھڑی کی جاتی ہے اور نہ ہی رات کو سفر کرنے والوں کیلئے روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے حالانکہ گزرنے والوں کیلئے وہ جگہ ہلاکت خیز ہوتی ہے۔بد قسمتی سے سڑکوں پر ہونے والے بہت سے حادثات تنبیہ کے اس نظام کو نظر انداز کر دینے کے نتیجے میں وقوع پذیر ہورہے ہیں۔مثلاً ایک مرتبہ میں اسلام آباد میں اپنی کار پر کہیں جارہا تھا۔میں نے کار کی ہیڈ لائٹس نیچی کی ہوئی تھیں کہ مجھے شک گزرا کہ سڑک کے درمیان کوئی غیر معمولی چیز پڑی ہوئی ہے۔خطرے کو بھانپتے ہی میں نے فوراً بریک لگائی تو معلوم ہوا کہ چند گز آگے سڑک کے آر پار ایک بہت بڑا گڑھا کھدا ہوا ہے اور اس کے باوجود وہاں نہ تو کوئی سرخ نشان تھا اور نہ ہی روشنی کا خاطر خواہ انتظام تھا۔اس پر مستزاد یہ کہ گڑھے کے ارد گرد سے مٹی بھی ہٹا دی گئی تھی حالانکہ اگر وہ ہوتی تو کم از کم و ہی مسافروں کو خطرے سے آگاہ کرنے کا ایک ذریعہ بن جاتی۔چنانچہ ہم محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی محفوظ رہے۔میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ سفر کر رہا تھا اگر میں اچانک بریک نہ لگا تا تو یقینا ہم سب ایک مہلک حادثے سے دو چار ہو جاتے۔جیسا کہ اگلے ہی دن یہ خبر ملی کہ کسی جرمن سیاح کی نئی مرسڈیز کا راسی گڑھے کی نذر ہوگئی۔خدا کرے کہ اس کی جان بچ گئی ہو۔آمین اسی قسم کا ایک اور واقعہ ہمیں شیخو پورہ سے گوجرانوالہ جانے والی سڑک پر بھی پیش آیا۔فرق صرف یہ ہے کہ وہاں کھری ہوئی سڑک کا ملبہ بھی موجود تھا اس لئے رات کو موٹر چلاتے ہوئے جب اچانک مٹی کے ڈھیر پر میری نظر پڑی تو میں اس سے ٹکرانے سے پہلے ہی بریک لگانے میں کامیاب ہو گیا۔وہاں بھی گاڑی چلانے والوں کیلئے خطرے سے آگاہی کا کوئی نشان موجود نہ تھا۔گڑھا اتنا بڑا تھا کہ جب ہم نے کار سے اتر کر اس کے اندر جھانکا تو یہ دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے کہ ایک سالم بس اس گڑھے میں گری پڑی تھی جس کا اب محض ڈھانچہ ہی باقی رہ گیا تھا۔