عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 35
عالم حيوانات 35 میں اس شعور کا پہلا مرحلہ قریبی رشتہ داروں کی تکلیف کے احساس سے شروع ہوا اور پھر رفتہ رفتہ یہ دائرہ دور کے رشتہ داروں تک اور بالآخر تمام بنی نوع انسان تک ممتد ہوتا چلا گیا۔پھر ادنی درجہ کے جانداروں کی تکلیف کا احساس پیدا ہوا۔یہ صفت بھی ایک دوسرے سے وابستہ ہونے کے احساس سے ہی پیدا ہوتی ہے جو کہ تمام حیوانات میں دکھائی دیتی ہے۔کسی بھی مشکل اور مصیبت کی گھڑی میں ایک ہی نوع کے جانور اکٹھے ہو جاتے ہیں۔شاید یہی وجدانی رو یہ بھیڑیوں اور کتوں میں اجتماعیت کا شعور پیدا کرتا ہے جو گروہوں کی شکل میں شکار کیلئے نکلتے ہیں۔یہ اس ارتقائی عمل کی چند ایک مثالیں ہیں جو دوسروں کے احساسات کے متعلق بڑھتی ہوئی آگہی سے جنم لیتا ہے۔چنانچہ خطرے کے وقت ہاتھی ، جنگلی بھینسے ، زیبرا اور ہرن وغیرہ اکٹھے ہو کر اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف رد عمل دکھاتے ہیں۔یہاں ایک نوع یا گروہ کے ساتھ ایسی وابستگی کا مہم شعور نظر آتا ہے جس کی حدود معین اور واضح نہیں ہیں بلکہ پھیل رہی ہیں۔انسانی ارتقا کے ساتھ ساتھ یہی حیوانی میلان اس میں زیادہ پختہ اور واضح ہوتا چلا گیا اور انسان میں دوسروں کیلئے ہمدردی کا جذ بہ صرف اپنے خاندان یا بنی نوع انسان تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس کا دائرہ ادنیٰ درجے کے جانداروں تک بھی وسیع ہو گیا۔اس مرحلے پر انسان کسی ایسے ضابطہ اخلاق کی ضرورت محسوس کرتا ہے جس کے احساس کا دائرہ کار انسانی حدود سے بھی آگے تک ممتد ہو۔تعلیم و تربیت کا یہ قدرتی منصو بہ حیوانات کے کردار کو کنٹرول کرنے والے جینز میں ان جسمانی تبدیلیوں پر منتج ہوا اور یہ سفراد نی انواع حیات سے اعلیٰ کی طرف مسلسل جاری رہا یہاں تک کہ انسانی پیدائش کی منزل آپہنچی۔جیسے جیسے قدرت ارتقا پذیر انواع حیات کی اپنے ماحول سے آگہی کے دائرہ کو وسیع کرتی چلی گئی ویسے ویسے ان کے جینز پر ان کے کردار کے بعض نقوش واضح ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ ہر نوع حیات کا مخصوص کردار واضح طور پر دیگر انواع سے الگ دکھائی دینے لگا۔ارتقا کے سفر میں جب ہم انسانی پیدائش کی منزل پر پہنچتے ہیں تو یہ جان کر ششدر رہ جاتے ہیں کہ زندگی کی ابتدائی حالتوں اور انسان کے مابین چند مراحل کا نہیں بلکہ بہت طویل مسافتوں کا فرق ہے۔انسان صرف انہی چیزوں کا شعور نہیں رکھتا جن کو وہ اپنے ارد گرد دیکھتا ہے بلکہ وہ ایسی انواع حیات سے بھی آگاہ ہے جنہیں نہ تو وہ براہ راست دیکھ سکتا ہے، نہ سن سکتا ہے اور نہ ہی محسوس کر سکتا ہے۔اسے ایسی صلاحیت عطا کی گئی ہے جس کے ذریعے وہ مختلف قسم کی امکانی صورتوں کا تصور کر سکتا ہے۔چنانچہ ارتقا کی یہ بلند تر منزل ہی ہے جو اس کی نگاہ کو زمینی حدود سے بہت بڑھ کر لا متناہی وسعت عطا کرتی