عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 22

22 عدل، احسان اور ایتاء ذي القربى - حصه اول 3- زمین کا ماحولیاتی نظام زمین اور اجرام فلکی کے مابین توازن : زمین اور اجرام فلکی کے درمیان موجود کرہ ہوائی کا کردار بے حد حیران کن ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والے قرآن کریم میں اس پیچیدہ سائنسی مشاہدات کے بارے میں پڑھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔آج کے سائنسدانوں نے کائنات کے سربستہ راز کھولنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، اس کے باوجود قرآن کریم فطرت کے قوانین اور ان کے مظاہر کے گہرے عرفان کے اعتبار سے ان سے کہیں آگے ہے۔سائنسدانوں کی کوششوں کے ثمرات قابل تعریف ہیں لیکن وہ اپنی حدود سے آگے نہیں نکل سکتے۔زمین کا ہوائی کررہ: قرآن کریم فرماتا ہے: فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمَوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءِ أمْرَهَا وَزَيَّنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (لم السجدة 13:41) ترجمہ: پس اس نے ان کو دو زمانوں میں سات آسمانوں کی صورت میں تقسیم کر دیا اور ہر آسمان کے قوانین اس میں وحی کئے اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں اور حفاظت کے سامانوں کے ساتھ مزین کیا۔یہ کامل غلبہ والے ( اور ) صاحب علم کی تقدیر ہے۔اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی تخلیق مکمل فرمائی اور ان میں سے ہر ایک اپنی تخلیق کے مقصد کے عین مطابق کام کر رہا ہے۔پھر قرآن کریم سب سے نچلے کرہ ہوائی کو زمین سے قریب ترین آسمان قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ آسمان زمین کی حفاظت کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔اُس زمانے کا انسان زیادہ سے زیادہ یہ سمجھ سکتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح آسمان اس کی حفاظت کر رہا ہے لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کس چیز سے اور کیونکر اس کی حفاظت کی جارہی ہے؟ عدل کی ایک تعریف یہ ہے کہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے نیز یہ مشاہدہ اچھی طرح کر لیا