عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 228
228 عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی - حصه چهارم گناہوں کو بخش دے گا اور جو بھی اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرے تو یقیناً اس نے ایک بڑی کامیابی کو پالیا۔فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے اعمال کی اصلاح ہو تو قولِ سدید یا دوسرے لفظوں میں قول عدل اختیار کرو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے اعمال اور معاشرہ کی اصلاح چاہتے ہو تو قول سدید انتہائی ضروری ہے۔اس کے نتیجہ میں نہ صرف تمہارے اعمال اصلاح پذیر ہو جائیں گے بلکہ تمہاری سابقہ غلطیاں بھی معاف کی جائیں گی۔سب سے اونچا مقام جس کا ایسے لوگوں کو وعدہ دیا گیا ہے یہ ہے کہ جو بھی ایسا کرے گا اور اللہ کے رسول کے احکامات اور اعمال کی پیروی کرے گا اسے بہت عظیم کامیابی عطا کی جائے گی۔اب قول عدل کے اس مضمون کو خوب سمجھنے کے بعد ہم اس مضمون کا نسبتاً زیادہ تفصیل سے مطالعہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عدل کی کیا تعلیم دی ہے۔