عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 205

بندہ سے خدا کا معاہدہ اور ذیلی معاهدات 205 انفرادی معاہدہ اور عہد شکنی کی سزا: اس کے برعکس قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ ذاتی عہد باندھنے والے بد نصیب ان عہدوں کو توڑ دیتے ہیں۔فرمایا: وَمِنْهُم مَّنْ عُهَدَ اللهَ لَبِنْ أَتْنَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّ قَنَّ وَ لَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّلِحِيْنَ فَلَمَّا أَتُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَ تَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُونَ فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقَا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا اَخْلَفُوا اللهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُوْنَ۔(التوبه 75:9 تا 77) اور ان ہی میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے کچھ عطا کرے تو ہم ضرور صدقات دیں گے اور ہم ضرور نیک لوگوں میں سے ہو جائیں گے۔پس جب اس نے اپنے فضل سے انہیں عطا کیا تو وہ اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے ) پھر گئے اس حال میں کہ وہ اعراض کرنے والے تھے۔پس عقوبت کے طور پر اللہ نے ان کے دلوں میں اس دن تک کیلئے نفاق رکھ دیا جب وہ اس سے ملیں گے بوجہ اس کے کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ خلافی کی نیز اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔شخص اس نقض عہد کی ایک مثال حدیث میں یوں ملتی ہے کہ آنحضرت لم ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں بہت غریب ہوں، غربت سے تنگ آ گیا ہوں۔میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے رزق میں برکت ڈالے اور مجھے اپنے فضل سے بہت مال و دولت عطا فرمائے۔اس نے یہ اظہار کیا کہ اگر خدا مجھے دے گا تو میں اس طرح بڑھ بڑھ کے اسکی راہ میں قربانیاں دوں گا۔آنحضرت ﷺ نے اس کیلئے دعا کی اور اس کے مال میں ایسی برکت پڑی کہ کثرت کے ساتھ اسکی بھیڑ بکریاں اور مال مویشی بڑھنے لگے۔جب کے نمائندے اس سے زکوۃ لینے گئے تو اس نے جواب میں کہا کہ کسی کا مال دیکھ کر تم زکوۃ لینے کیلئے آجاتے ہو لیکن یہ پتہ نہیں کہ کوئی کسی محنت سے کماتا ہے اور یونہی مفت میں مال ہاتھ نہیں آجاتا۔غرضیکہ اسی طرح اس نے بڑھ بڑھ کر باتیں بنائیں اور وہ نمائندے اس سے بغیر کچھ وصول کئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کی آپ کو اطلاع دی۔یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے یہ حکم صادر فرمایا کہ آئندہ اس سے بھی خدا کے نام پر کوئی مال نہیں لیا جائے گا۔صلى الله