عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 291

عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 5

تین بنیادی تخلیقی اصول 1- تین بنیادی تخلیقی اصول انسانی تعلقات کے تین مدارج : ا: عدل-----کامل انصاف۔۲: احسان۔۔۔۔۔کسی کو اس کے حق سے زیادہ عطا کرنا۔ما 5 : ایتا عذی القربی ---- کسی کے ساتھ اپنے قریبی رشتہ داروں جیسا سلوک روا رکھنا۔آج کے خطاب کیلئے میں نے جس آیت کا انتخاب کیا ہے وہ بہت ہی وسیع اور جامع مضمون پر مشتمل ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل 91:16) ترجمہ: یقیناً اللہ عدل کا اور احسان کا اور اقرباء پر کی جانے والی عطا کی طرح عطا کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور بغاوت سے منع کرتا ہے۔وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم عبرت حاصل کرو۔اللہ تعالیٰ ہمیں صرف عدل ہی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ اسے آگے بڑھاتے ہوئے چاہتا ہے کہ ہم احسان کریں اور اس مقام پر ٹھہرنے کی بجائے انسانی تعلقات میں ایتا عذی القربی کے درجے تک پہنچیں یعنی محبت اور نگہداشت کا ایسا اظہار ہو جو ایک بچے کیلئے اس کی ماں میں دیکھا جا سکتا ہے۔یاں اپنے بچے کے ساتھ بغیر کسی طمع اور لالچ کے محبت کرتی ہے۔اس کے جذبات میں کسی قسم کا کوئی تصنع نہیں بلکہ ایک طبعی بہاؤ ہوتا ہے۔اپنے پیاروں کیلئے اس کے اظہار محبت میں ہمیشہ بے ساختہ پن ہوا کرتا ہے۔یہ وہ مثال ہے جو ایتاً ء ذی القربی کی روح کو خوب واضح کرتی ہے۔مذکورہ بالا آیت کے پہلے حصے میں انسانی تعلقات کے تین مدارج مقرر فرما دیئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ مومنوں سے کم سے کم لیکن سب سے اہم مطالبہ یہ کرتا ہے کہ وہ عدل کے مقام پر فائز ہوں گے۔لیکن وہ عدل کے مقام پر ٹھہریں گے نہیں بلکہ آگے قدم بڑھاتے ہوئے احسان کی سرزمین میں داخل ہوں گے اور محض لوگوں کے حقوق ادا کرنے والے نہیں ہوں گے بلکہ بنی نوع انسان کو ان کے حق سے زیادہ ادا کرنے کا سلیقہ سیکھیں گے اور ایسے لوگوں پر بھی اپنی جود وسخا کا فیض