عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page 132
132 عدل، احسان اور ایتاء ذى القربى - حصه دوم ترجمہ: اور اپنی نماز نہ بہت اونچی آواز میں پڑھ اور نہ اسے بہت دھیما کر اوران کے درمیان کی راہ اختیار کر۔مندرجہ ذیل حدیث اس آیت کی تشریح کرتی ہے: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بالکل خاموشی کے ساتھ تہجد ادا کیا کرتے تھے۔یہاں تک کہ آپ کے ساتھ کھڑا آدمی بھی آپ کی ہلکی سی آواز بھی نہ سن سکتا تھا۔اس کے برعکس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بلند آواز سے قراءت کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ” آپ دل ہی دل میں نماز کیوں پڑھتے ہیں؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جس تک اپنی مناجات پہنچانا چاہتا ہوں اس تک تو پہنچ جاتی ہیں لہذا میرے لئے یہی کافی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بالکل خاموشی سے دل ہی دل میں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔دھیمی آواز میں پڑھنا چاہئے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مزاج حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مختلف تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر کہ وہ تہجد میں بآواز بلند تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ ”میں تلاوت قرآن کریم کے ذریعے شیطان کو دور بھگاتا ہوں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان کو اس طریق پر سزا دینے کی ضرورت نہیں ، دھیمی آواز میں تلاوت کرنی چاہئے۔کیونکہ تہجد میں بآواز بلند قرآت کرنے سے ارد گرد موجود لوگوں کی (25)،، عبادت میں خلل واقع ہوسکتا ہے ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بآواز بلند نماز تہجد ادا کرنے سے بعض غیر مسلوں کی نیند میں خلل واقع ہوا جس پر وہ ناراض ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا کہ دوسروں کا خاص خیال رکھا جائے اور ان کی نیند میں مخل نہ ہوا جائے۔تاہم آواز میں دھیمی رکھنے کا حکم