عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page xi
xi خاکسار نے محض خدا تعالیٰ کے فضل سے مہینوں تک روزانہ کئی کئی گھنٹوں حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کتاب پر کام کرنے کی توفیق اور سعادت پائی۔حضور انور نے چاروں خطابات کے مسودات کا بنظر غائر جائزہ لیا۔اس کا طریق یہ تھا کہ خاکسار مسودہ پڑھتا جاتا اور حضور انور قطع نظر اپنی بیماری کے مناسب مواقع پر ہدایات دیتے جاتے اور مناسب حال صحیح اور تبدیلی فرماتے جاتے۔محترمه فرینه قریشی صاحبہ اور فریدہ احمد صاحبہ نے بھی کئی ماہ تک گھنٹوں حضور سے ہدایات لینے کی سعادت پائی اور حضور کی ہدایات کے مطابق مسودہ پر کام کیا۔اسی طرح مندرجہ ذیل احباب نے بھی حضور کی ہدایات کے مطابق ان خطابات کے بارہ میں حوالہ جات وغیرہ کے حصول میں خدمت کی توفیق پائی۔منیر احمد جاوید صاحب، پیر محمد عالم صاحب (مرحوم)، مسر صالحہ صفی صاحبہ اور مسز فوزیہ باجوہ صاحبہ۔حوالہ جات وغیرہ کی چیکنگ اور کتاب کی سیٹنگ کا کام مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب وکیل الاشاعت نے بڑی محنت سے کیا۔اللہ تعالیٰ اُن سب کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے کسی بھی رنگ میں خدمت کی توفیق پائی ہے۔مجھے دکھ ہے کہ بالآخر مسودہ نے جب حتمی شکل اختیار کی تو بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر یہ کتاب حضور کی زندگی میں شائع نہ ہوگی۔غم اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ آج ہم حضرت مرزا مسرور احمد صاحب خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیر ہدایت ونگرانی اس کتاب کی اشاعت کی توفیق پارہے ہیں۔فالحمد لله على ذالك اب پہلی بار چاروں خطابات کو ایک جلد میں اکٹھا پیش کیا جارہا ہے۔فہرست مضامین کو کتاب کے شروع میں اور انڈیکس کو آخر پر رکھا گیا ہے۔اور دراصل یہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمتہ اللہ علیہ کی خواہش اور ہدایات کے مطابق کیا گیا ہے۔حضور انور کے ان خطابات کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے بیان فرمودہ نظام عدل، احسان اور ایتاء ذی القربیٰ جیسے سنہری اصول اپنی جامعیت کے اعتبار سے مخلوق خدا کے