عدل، احسان اور ایتآءِ ذی القربٰی — Page x
X عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی پیش لفظ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ المسیح الرابع امام جماعت احمد یہ عالمگیر (1982ء تا2003ء) نے 1982ء میں مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد جلسہ سالانہ ربوہ پاکستان کے موقع پر اردو میں اسلام کا نظام عدل، احسان اور ایتاء ذی القربی کے عنوان سے خطابات کا ایک سلسلہ شروع فرمایا۔اس سلسلہ کا دوسرا خطاب آپ نے جلسہ سالانہ ربوہ پاکستان کے موقع پر 1983ء میں ارشاد فرمایا۔1984ء میں بوجوہ آپ کو انگلستان ہجرت کرنا پڑی جہاں آپ نے جلسہ سالانہ انگلستان کے موقع پر دو مزید خطابات ارشاد فرمائے جن میں سے پہلا یعنی اس سلسلہ کا تیسر ا خطاب 2 اگست 1987ء کو اور دوسرا یعنی اس سلسلہ کا چوتھا اور آخری خطاب 24 جولائی 1988 ء کو ارشاد فرمایا۔اس عنوان پر پہلے خطاب کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا جسے اسلام انٹرنیشنل پبلیکیشنز لمٹیڈ انگلستان نے Absolute Justice, Kindness and Kinship - The Three Creative Principles کے عنوان سے 1996ء میں شائع کیا۔بعد ازاں حضور انور نے چاروں خطابات کے مسودات کی خود نظر ثانی کرتے ہوئے ان میں متعدد اضافے اور تبدیلیاں فرمائیں۔چونکہ خطابات کے تسلسل میں کافی وقفہ آ گیا تھا جس کی وجہ سے ابتدائی دو اور آخری دو خطابات میں مضامین کی اچھی خاصی تکرار ہو گئی تھی اس لئے حضور انور نے انگریزی متن کی خود نظر ثانی کرتے ہوئے کئی حصوں کو مختصر کر دیا اور کئی ایک حصے متن سے خارج کر دیئے تا کہ غیر ضروری تکرار قاری پر گراں نہ گزرے نیز مضمون کا تسلسل بھی برقرارر ہے۔حضور نے محترمہ فرینہ قریشی صاحبہ اور محترمہ فوزیہ احمد صاحبہ کو پہلے دو خطابات کا انگریزی ترجمہ بذات خود از سر نولکھوایا۔جن کو مد نظر رکھتے ہوئے مکرم و محترم چوہدری محمد علی صاحب وکیل التصنيف کی زیر نگرانی اردو تر جمہ کو ان کے مطابق کیا گیا۔