ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 30 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 30

ب المسيح 30 اب دیکھ لیں وَ لِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِی “ اور گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار کو مقابل پر رکھ لیں تو ایک ہی معنی ابھرتے ہیں یعنی جیسے ماں بچے کو گود میں لے کر پرورش کرتی ہے اُسی طرح انبیاء کی تمام روحانی اور علمی استعداد میں محبوب حقیقی کی نگرانی میں اور اس کی منشاء کے مطابق جنم لیتی ہیں اور آخری شعر بھی اسی مضمون کو بیان کر رہا ہے کہ آپ حضرت اپنی کوئی بھی ذاتی استعداد اور قابلیت نہیں سمجھتے ہیں اور اپنے علم وادب کو صرف اور صرف باری تعالیٰ کی عنایت خاص گردانتے ہیں۔۔۔۔۔لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا درگہ میں بار دراصل حضرت کا اس شعر میں اس طرف اشارہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کے آقا اور مطاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْامی“ کہا ہے (الاعراف: 158) حضرت اقدس اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: در متقی کا معلم خدا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر امتیت غالب ہوتی ہے“ ( ملفوظات جلد اول صفحه ۴ ۲۸۔جدید ایڈیشن مطبوعه ر بوه ) یہاں تک تو انبیاء کی تعلیم و تربیت اور اکتساب علم و ہنر کے اعتبار سے عمومی فرمان کا ذکر ہوا ہے اب اس ایک تفصیلی بیان کو بھی سُن لیں جس میں اللہ تعالیٰ اُن ذرائع اور انتظام کا ذکر فرماتا ہے جو اُس نے اس مقصد کے حصول کے لیے اختیار فرمائے ہیں۔فرماتا ہے: عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا لِيَعْلَمَانُ قَدْ اَبْلَغُوا رِسَلَتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَاحْصُى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا (الجن : ۲۹،۲۸،۲۷) حضرت اقدس آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔د یعنی اللہ اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں ہونے دیتا مگر ان لوگوں کو جو اس کے رسول اور اس کی درسگاہ کے پسندیدہ ہوں۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت) درسگاہ کے لفظ سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ یہاں پر انبیاء کی درسگاہ سے مرادان کی تعلیم و تربیت اور اندازِ تعلیم ہے۔باقی ماندہ آیات اور اُن کے معانی یہ ہیں فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا اور اس