ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 29
29 29 ادب المسيح تربیت اور کمال علم وادب۔زندگی کے عوامل اور محرکات سے متاثر ہو کر تشکیل نہیں پا تا بلکہ یہ ایک عنایت خاص کے طور پر عطا ہوتا ہے اور کامل تصرف الہی کے تحت تخلیق ہوتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی بنا پر ہم حضرت اقدس کے ادب کو ایک منفرد اور جدا گانہ مکتب شعر و ادب کہتے ہیں۔مگر ہمارا موضوع اس تفصیل کی اجازت نہیں دیتا اس لیے مختصر چند فرمودات قرآن پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةٌ مِنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي (طه:۴۰) حضرت اقدسش اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔براہین احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی ایک پیشگوئی ہے و القیت علیک محبّةً منى ولتصنع علی عینی یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں تیری محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالوں گا اور میں اپنی آنکھوں کے سامنے تیری پرورش کروں گا“۔(حقیقۃ الوحی - ر- خ- جلد ۲۲ صفحہ ۲۳۹) یہ بہت ہی عالی مرتبہ اور محبت میں ڈوبا ہوا فرمانِ باری تعالیٰ ہے۔اس فرمان کے بیان میں ایک بہت اچھی بات یہ بھی ہے کہ یہ آیت آپ حضرت اقدس پر الہام ہونے کی وجہ سے اگر اوّل یہ فرمان عمومی تھا تو آپ کے لیے خدا تعالیٰ نے مخصوص بھی کر دیا اور آپ ہی کا ادب اور اس کے عوامل تخلیقی یہاں بیان ہو رہے ہیں۔اس فرمانِ الہی سے یہ بات ثابت ہے کہ مرسلین باری تعالیٰ کی تمام تعلیم و تربیت اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف خاص کے تحت ہوتی ہے اور ان کی تمام استعدادیں اور قابلیتیں اللہ کی نگرانی اور اس کی منشاء کے تحت تشکیل پذیر ہوتی ہیں اور کوئی خارجی محرک اور عمل کارفرما نہیں ہوتا۔حضرت اقدس نے اس حقیقت کو بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔بلکہ تقریباً وہی الفاظ اختیار کئے ہیں جو کہ خدا تعالیٰ کے تھے۔حق بھی یہ ہے کہ محبوب کے کلام کی رمز کو ایک عاشق ہی سمجھ سکتا ہے۔اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار نسلِ انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھ میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یارِ غمگسار میں ہے لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر پا گیا درگہ میں بار