ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 428
ب المسيح 428 ان احسانات کو اپنی صداقت کا نشان سمجھتے ہیں۔فرماتے ہیں: پر وہ جو مجھکو کاذب و مگار کہتے ہیں اور مفتری و کافر و بدکار کہتے ہیں اُن کے لیے تو بس ہے خُدا کا یہی نشاں یعنی وہ فضل اُس کے جو مجھ پر ہیں ہر زماں دیکھو! خُدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا! گم نام پاکے فبرة عالم بنا دیا! جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا دُنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی جو اُس نے مُجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی اسی اندار میں عربی اشعار میں یہ مناجات ہے اس کا حسن و خوبی مشاہدہ کریں۔سئمنا تكاليف التطاول من عدا تمادت ليالي الجور يا ربي انصر ہم نے ظلم کی تکلیفیں دشمنوں سے اٹھا ئیں۔اور ظلم کی راتیں لمبی ہو گئیں۔اے خدا ! مددکر و جئناك كالموتى فاحى أمورنا نخر امامک کالمساکین فاغفر اور مُردوں کی طرح تیرے پاس آئے ہیں پس ہمارے کاموں کو زندہ کر۔ہم تیرے آگے مسکینوں کی طرح گرتے ہیں پس ہمیں بخش دے الهی فدتك النفس انک جنتی وما ان ارى خلدا كمثلك يثمر اے خدا! میری جان تیرے پر قربان ، تو میری بہشت ہے۔اور میں نے کوئی ایسی بہشت نہیں دیکھی کہ تیرے جیسا پھل لاوے طردنا لوجهك من مجالس قومنا فانت لنا جب فريد و مؤثر اے میرے خدا! تیرے منہ کیلئے ہم اپنی قوم کی مجلسوں سے رد کر دیئے گئے۔پس تو ہمارا یگانہ دوست ہے جو سب پر اختیار کیا گیا