ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 13
13 ادب المسيح ادب اور اس کی تعریف اگر ”ادب لمسیح کی تالیف کا مقصد یہ ہے کہ حضرت اقدس کے شعری ادب کے محاسن بیان ہوں تو اس نسبت سے ہماری کوشش کے عین مطابق ہوگا کہ اول لفظ ”ادب“ کے معانی اور تعریف میں کچھ بیان کیا جائے۔یہ بیان اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم نے محاسن ادب حضرت اقدس اور تمام مرسلین کی نشاندہی کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ ادبی محاسن کو معیار اور کسوٹی کے طور پر اختیار کیا ہے۔اس لیے لازم ہے کہ ابتدا ہی میں یہ امر واضح ہو جائے کہ زمینی ادب اور آسمانی ادب یعنی ”ادب المرسلین کی تعریف اور تعیین میں کس حد تک اتفاق ہے اور کتنا اختلاف۔یہ جائزہ لینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ادب مرسلین اور قرآن کریم کا ادب ایک منفرد نوعیت کا ادب ہے۔اس لیے جب تک دیگر مکاتیب ادب اور اس منفر د مکتب ادب کے مقامات اتحاد اور اختلاف واضح نہ ہو جائیں اس وقت تک محاسن کلام حضرت اقدس کی حقیقی شان اجا گر نہیں ہو سکے گی۔تا ہم اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اصولی طور پر ہر زبان کا ادب اپنی ادبی اقدار اور اسالیب کی پاس داری کے اعتبار سے ایک ہی نوعیت کا ہوتا ہے۔جہاں پر زبان ایک ہوگی وہاں پر اسالیب اظہار خیال ہم رنگ اور ایک ہی ہوں گے۔قرآن کریم نے جب عربی زبان بولنے والوں کو دعوت مقابلہ دی اور فرمایا فَأْتُوْا بِسُورَةٍ مِن مِثْلِیے تو اس کا مطلب یہی تھا کہ عربی زبان میں اس کے اسالیب کی پاسداری کرتے ہوئے قرآن کے موضوعات میں اس سے بہتر کلام پیش کرو ( جیسا کہ ”مِنُ مِثْلِہ سے واضح ہے )۔مگر اس اتحاد و یگانگت کے باوجود اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ جب کسی ادیب کے محرکات تخلیق ادب عام روش سے ہٹ کر ایک مخصوص اور منفرد نہج اختیار کر لیتے ہیں اور اپنا طمح نظر اور مقصود بدل لیتے ہیں تو اس کی ادبی نگارشات بھی یقینی طور پر ممتاز نوعیت اختیار کر لیتی ہیں۔اس صورت میں ہمارے لیے ضروری ہے کہ اول ان اقدار ادب کا بیان ہو جو ہر زبان کے ادب کی مشترک میراث ہے اور پھر یہ جائزہ لیا جائے کہ قرآن کریم اپنی ادبی اقدار کو کیسے بیان کرتا ہے اور پھر ان محرکات تخلیق ادب پر بات ہو جن کی بنا پر ان دونوں ادبی اقدار کی نوعیت مختلف اور ممتاز ہو جاتی ہے۔جیسا کہ ہم نے قرآن کریم اور مرسلین باری تعالیٰ کے ادب کو آسمانی ادب اور دیگر ادبیات کو ز مینی کہا ہے۔تو زمینی ادبیات کے اعتبار سے ”ادب“ کی چند لفظی تاریخ اور تعریف اس طور سے بیان کی جاتی ہے۔ابتداء لفظ ”ادب“ کی تعریف ان گنت معنوں میں کی جاتی رہی ہے۔اپنے عربی اصل کے پیش نظر ہر خلق