ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 250
المسيح 250 احمد کی جان کے اندر احمد ظاہر ہو گیا اس لیے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے اس مضمون کے اختتام پر حضرت مسیح موعود کا ایک نثری فرمان بھی سن لیں جو کہ الہام الہی ہے فرماتے ہیں۔كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ الله فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ (ترجمہ: ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے پس بڑا مبارک وہ جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی ) فرماتے ہیں: یعنی یہ مخاطبات اور مکالمات کا شرف جو مجھے دیا گیا ہے یہ محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا طفیل ہے اور اسی لئے یہ آپ ہی سے ظہور میں آرہے ہیں۔جس قدر تا خیرات اور برکات وانوار ہیں وہ آپ ہی کے ہیں۔۔(دیکھو تفسیر حضرت اقدس الاحزاب: 41) ان گذارشات سے یہ حقیقت تو واضح ہو گئی کہ نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرنے کا حقیقی حقدار کون ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ امر بھی ثابت ہو گیا کہ نعت کے دوہی عنوانات ہیں۔اول یہ کہ باری تعالیٰ سے قرب کی نسبت سے آپ کا منصب عالی کیا ہے دوم یہ کہ انسان ہونے کے اعتبار سے آپ کے اخلاق اور فضائل عالی کیا ہیں۔اپنے دستور کے مطابق ہم اول قرآن کریم کے فرمودات کو پیش کرتے ہیں۔اول عنوان کے تحت ہم عرض کرتے ہیں کہ دراصل یہ قرآن کریم کا حقیقی موضوع ہے جو تمام موضوعات اور مقاصد قرآن کریم کا محور ہے جیسا کہ سورۃ ھود کی ابتدائی آیات میں فرماتا ہے الركتُبُ أحْكِمَتْ أَيْتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيْرٍ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا الله اِنَّنِي لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرُ حضرت اقدس ان آیات کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی آیات پکی اور استوار ہیں (هود: 3،2) الَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللہ خدا تعالیٰ کے سوا ہر گز ہر گز کسی کی پرستش نہ کر واصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات : 57) فرماتے ہیں ” عبادت اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر